پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے اطراف اہم سڑکیں بند
- پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کے اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا
دارالحکومت میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کے اتوار کو ہونے والے احتجاج سے قبل انتظامیہ نے اہم داخلی راستوں کو ڈبل اسٹیک کنٹینرز لگا کر بند کردیا، جبکہ پولیس نے 22 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کے اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا، جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا اور دارالحکومت کا دیگر علاقوں سے رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا۔ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے درمیان آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد پشاور ہائی وے پر دارالحکومت کے مضافات میں ٹول پلازہ مکمل طور پر بند تھا، جہاں کنٹینرز اور رکاوٹیں مرکزی شاہراہ پر آمدورفت میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ شہریوں نے ٹریفک جام اور روزمرہ آمدورفت میں مشکلات کی شکایت کی۔
اتوار کو مجوزہ احتجاج سے قبل حکومتی اقدامات میں تیزی بھی آئی ہے۔ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا۔ حکام کے جاری کردہ 30 روزہ حفاظتی حراست کے احکامات میں ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں کو متحرک کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد ارکان اسمبلی، علاقائی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی پنجاب کے مختلف اضلاع اور اسلام آباد سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 1,500 کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بابو رام پنت نے عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی، اظہار رائے، تنظیم سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف بدعنوانی سمیت متعدد مقدمات ہیں۔ وہ اور ان کی قانونی ٹیم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی شہر کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
























Comments