BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.29 Decreased By ▼ -1.44 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.15 Decreased By ▼ -2.76 (-1.22%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل اسلام آباد کے اطراف اہم سڑکیں بند

  • پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کے اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

دارالحکومت میں سابق وزیراعظم عمران خان کے حامیوں کے اتوار کو ہونے والے احتجاج سے قبل انتظامیہ نے اہم داخلی راستوں کو ڈبل اسٹیک کنٹینرز لگا کر بند کردیا، جبکہ پولیس نے 22 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اسلام آباد کے اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور بڑے چوراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا، جس سے ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہوا اور دارالحکومت کا دیگر علاقوں سے رابطہ تقریباً منقطع ہوگیا۔ اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کے درمیان آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔

جمعرات کی سہ پہر اسلام آباد پشاور ہائی وے پر دارالحکومت کے مضافات میں ٹول پلازہ مکمل طور پر بند تھا، جہاں کنٹینرز اور رکاوٹیں مرکزی شاہراہ پر آمدورفت میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ شہریوں نے ٹریفک جام اور روزمرہ آمدورفت میں مشکلات کی شکایت کی۔

اتوار کو مجوزہ احتجاج سے قبل حکومتی اقدامات میں تیزی بھی آئی ہے۔ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت حراست میں لیا گیا۔ حکام کے جاری کردہ 30 روزہ حفاظتی حراست کے احکامات میں ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے حامیوں کو متحرک کرنے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد ارکان اسمبلی، علاقائی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی پنجاب کے مختلف اضلاع اور اسلام آباد سے حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 1,500 کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بابو رام پنت نے عمران خان کے خاندان اور پی ٹی آئی کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی، اظہار رائے، تنظیم سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف بدعنوانی سمیت متعدد مقدمات ہیں۔ وہ اور ان کی قانونی ٹیم الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم قرار دیتے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کیے جانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی شہر کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Comments

200 حروف