علیمہ خان کو 27 ستمبر کے احتجاج سے قبل ایم پی او کے تحت حراست میں لے لیا گیا
- پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس اقدام کی مذمت کی
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا ہے، یہ بات لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں کہی گئی ہے۔
آج نیوز نے رپورٹ کیا علیمہ خان کی گرفتاری لاہور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اعجاز کے حکم پر عمل میں آئی۔
20 ستمبر کو ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت جاری کیے گئے حکم نامے میں علیمہ خان اور محمد امیر کو حراست میں لینے اور ان کی تحویل سنٹرل جیل کوٹ لکھپت کے سپرنٹنڈنٹ کے سپرد کرنے کی ہدایت کی گئی۔حکم نامے میں انہیں حراست میں لیے جانے کے خلاف صوبائی حکومت کو درخواست پیش کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
حکم نامے کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے لاہور پولیس اور انٹیلی جنس حکام کی سفارشات پر کارروائی کی، جنہوں نے دونوں افراد کو عوامی تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے خطرہ قرار دیا۔
حکم نامے میں پولیس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا گیا کہ 9 مئی 2023 کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد علیمہ خان اور محمد امیر سڑکیں بلاک کرنے اور احتجاجی مظاہروں میں ملوث تھے۔ مزید الزام لگایا گیا کہ انہوں نے کارکنوں کو سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا اور ایک بار پھر سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے اپنے حامیوں کو متحرک کر رہے تھے۔
رپورٹس میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ دونوں حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے، جس کا مقصد عوام کو مشتعل اور اکسانا تھا۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں اور انہیں عوامی امن و سکون کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
پولیس اور انٹیلی جنس حکام نے لاہور میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایم پی او کے تحت دونوں کی 30 روزہ حراست کی سفارش کی تھی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے علیمہ خان کی حراست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بارے میں علیمہ خان کی بہن نورین نیازی نے آگاہ کیا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے واضح کر دیا ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج پُرامن ہوگا اور پارٹی اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کو تشدد یا تصادم کے بغیر آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان کو ایم پی او کے تحت حراست میں لیے جانے سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبے کے لیے 27 ستمبر کو احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ یہ حراست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مجوزہ احتجاج سے قبل پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں اور دیگر اقدامات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
























Comments