ستمبر کیلئے ایندھن محفوظ، امریکا سے وی ایل سی سی کے ذریعے خام تیل لانے پر غور
پاکستان نے ستمبر کے لیے ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کرلیے ہیں اور نامساعد حالات میں بھی اکتوبر کی ضروریات کو محفوظ بنا لیا ہے، تاہم وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت نومبر کے لیے بھی پہلے ہی منصوبہ بندی کر رہی ہے کیونکہ علاقائی تنازع کے جاری رہنے کے دورانیے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
انہوں نے مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس وافر ذخائر موجود ہیں، اس خطرناک ماحول میں بھی ستمبر کی ضروریات پوری ہیں۔ انتہائی نامساعد صورتحال میں بھی اکتوبر کے لیے ہمارے پاس کافی انتظام ہے تاہم نومبر کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ کے باعث تیل کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر خلل پیدا ہوا ہے جس سے پاکستان کی کمزور معیشت شدید متاثر ہورہی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کے ذریعے آمدورفت میں خلل جو عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے اور ایل این جی کی ایک تہائی ترسیل کے لیے اہم گزرگاہ ہے کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پرویز ملک نے کہا کہ حکومت آبنائے ہرمز، باب المندب اور سعودی عرب سے آنے والی سپلائی کے راستوں میں ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے متعدد ہنگامی منصوبوں پر کام کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جنوبی ایشیائی ملک عمان اور فجیرہ سے خام تیل حاصل کرنے پر غور کررہا ہے جبکہ لیبیا، امریکا، مغربی افریقا/نائجیریا اور قازقستان سے بھی تیل کی درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکا سے ایک وی ایل سی سی (بہت بڑے خام تیل بردار جہاز) لانے اور اسے حب کے قریب لنگرانداز کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے وی ایل سی سی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جہاز عام تیل بردار جہازوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ بندرگاہوں میں ایسے بڑے جہازوں کو لنگرانداز کرنے کے لیے مطلوبہ گہرائی اور بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔
لہٰذا ہمیں اسے یا تو عمان کے قریب صحار میں یا حب کے نزدیک لنگرانداز کرنا ہوگا اور پھر شپ ٹو شپ منتقلی کے ذریعے خام تیل پاکستان پہنچانے کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر سپلائی کا یہ سلسلہ منقطع ہوگیا تو ملک میں ڈیزل کی شدید قلت پیدا ہوجائے گی کیونکہ ہماری تمام ڈیزل ضروریات ریفائنریوں کو زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت پر چلا کر پوری کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے تیل کی تنصیبات پر حملوں کے باعث سعودی عرب سے تیل کی سپلائی فی الحال معطل ہے جبکہ سپلائی میں تعطل کے باعث ایک پاکستانی جہاز کو بھی اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان کے پاس اپنی سپلائی کو سنبھالنے کے لیے جہازوں کی تعداد بہت محدود ہے، اس لیے میں ان سے کہتا رہا ہوں کہ میں اس جہاز کو غیر معینہ مدت تک اسی جگہ کھڑا نہیں رکھ سکتا۔ لہٰذا مجھے اسے کسی نہ کسی سمت روانہ کرنا ہوگا۔
پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان نے واضح طور پر قرار دے رکھا ہے کہ اگر اس کے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ریاست کے خلاف جنگی اقدام تصور ہوگا۔
پاکستان کو شدید خطرات لاحق ہیں کیونکہ اس کی درآمدی تیل اور گیس کا 80 سے 85 فیصد سے زائد حصہ خلیجی خطے سے آتا ہے اور یہ تمام سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ آبنائے کی بندش کے باعث ایل این جی اور ایل پی جی کی سپلائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مقامی ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں متبادل راستوں سے سپلائی حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاہم اس کے لیے انہیں نمایاں طور پر زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
























Comments