اسحاق ڈار کی ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو، فلسطین اور دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ
- دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطین کے حوالے سے اپنے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان کی حمایت کا اظہار کیا
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے جمعرات کو ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کی علاقائی صورتحال کا جائزہ لیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطین کے حوالے سے اپنے مشترکہ مؤقف کا اعادہ کیا اور آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان کی حمایت کا اظہار کیا، جس میں برطانیہ کے مقبوضہ علاقوں میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات پر پابندی عائد کرنے اور ان بستیوں سے منسلک خدمات محدود کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
انہوں نے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے دو ریاستی حل کے حوالے سے جاری کیے گئے مشترکہ بیان کی بھی حمایت کا اظہار کیا۔
پاکستان نے بدھ کو مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے کے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات دو ریاستی حل اور خطے میں امن و استحکام کے حصول کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستان نے کئی دیگر ممالک، جن میں کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن شامل ہیں، کی جانب سے بھی غیر قانونی بستیوں کے خلاف اسی طرح کے اقدامات پر غور کرنے کے اعلانات کا خیرمقدم کیا۔
دریں اثنا، اسحاق ڈار اور حاکان فیدان نے علاقائی امور پر قریبی مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس میں علاقائی فور (آر فور) فریم ورک کے تحت تعاون بھی شامل ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر شامل ہیں۔
دونوں جانب سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔























Comments