دیامر بھاشا ڈیم کا پاور منصوبہ برقرار، منسوخی کی اطلاعات گمراہ کن قرار
- دیامر بھاشا ڈیم بدستور قومی ترجیحی منصوبہ ہے ، وزارتِ اقتصادی امور
وزارتِ اقتصادی امور نے ہفتے کو ان رپورٹس کو سختی مسترد کردیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کے 4,500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کو منسوخ کردیا ہے۔
وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق یہ اطلاعات غلط اور گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم بدستور قومی ترجیحی منصوبہ ہے جس میں پانی ذخیرہ کرنے کے ساتھ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی شامل ہے۔
وزارتِ اقتصادی امور نے کہا کہ حکومت نے بجلی پیدا کرنے کی سہولیات کو منسوخ نہیں کیا جبکہ واپڈا اور متعلقہ وزارتوں کے ساتھ منصوبہ بندی کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام سرکاری طور پر جاری ہونے والی اطلاعات پر ہی انحصار کریں۔ حکومت پاکستان کی آبی اور توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم کی تکمیل، بشمول اس کی پن بجلی کی تنصیبات کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
وزارتِ اقتصادی امور کی جانب سے یہ تردید اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں اقتصادی امور ڈویژن کی ایک لیک ہونے والی اندرونی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم کا بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ منسوخ کردیا ہے۔
اسی طرح پاور ڈویژن نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کا بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ موجودہ اور آئندہ آئی جی سی ای پی دستاویزات میں شامل ایک پُرعزم منصوبہ ہے۔
پاور ڈویژن نے ہفتے کو کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ موجودہ حکومت کی جانب سے آزاد بجلی مارکیٹ کے قیام کے بعد پاکستان میں نئے آئی پی پیز کے کاروبار کا باب مستقل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو آئی پی پیز سے جوڑنے اور اسے سنسنی خیز بنانے کی کوئی بھی کوشش محض من گھڑت مفروضوں پر مبنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا مواد پوسٹ کرنے سے پہلے ہمیں حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے۔
























Comments