مریم نواز شریف کو ہانگ کانگ میں سسٹین ایبلٹی سمٹ، ایوارڈ تقریب میں شرکت کی دعوت
- سمٹ اور ایوارڈز کی تقریب 30 نومبر کو گرینڈ حیات ہانگ کانگ میں منعقد ہوگی
سوئٹزرلینڈ میں قائم آزاد فاؤنڈیشن نوبیل سسٹین ایبلٹی ٹرسٹ (این ایس ٹی) جسے نوبیل خاندان کے افراد نے قائم کیا ہے نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو ہانگ کانگ میں ہونے والی 2026 سسٹین ایبلٹی سمٹ اور ایوارڈز تقریب میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب آفس کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق سمٹ اور ایوارڈز کی تقریب 30 نومبر کو گرینڈ حیات ہانگ کانگ میں منعقد ہوگی۔
این ایس ٹی نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیجے گئے اپنے مراسلے میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت، ماحولیاتی تحفظ، جنگلات، جنگلی حیات کے تحفظ، فضائی معیار کی بہتری اور ٹیکنالوجی پر مبنی ماحولیاتی حکمرانی کے شعبوں میں پنجاب کے جاری اقدامات کو سراہا۔
فاؤنڈیشن نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پنجاب میں ریئل ٹائم مانیٹرنگ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ڈیٹا پر مبنی نظام کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی سراہا۔
بیان کے مطابق پنجاب نے اسموگ کے تدارک کی کوششوں کے سلسلے میں آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی، ماحولیاتی خطرات کا جائزہ لینے اور مختلف محکموں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام متعارف کرائے ہیں۔
این ایس ٹی نے فضائی معیار کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے جدید آلات اور ڈیجیٹل نظام کے استعمال کے ساتھ ساتھ غیر قانونی جنگلات کی کٹائی اور شکار کی روک تھام کے لیے ریموٹ مانیٹرنگ ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی سراہا۔
بیان میں کہا گیا کہ جنگلی حیات کے تحفظ، افزائشِ نسل اور معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کی حفاظت کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور دیگر جدید ذرائع بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔
این ایس ٹی کے چیئرمین پیٹر نوبیل نے مریم نواز کو باضابطہ طور پر سمٹ اور ایوارڈز تقریب میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی اور ٹیکنالوجی پر مبنی طرزِ حکمرانی کی جانب پنجاب کی پیشرفت کو ایک ایسی مثال قرار دیا جس کی دیگر مقامات پر بھی پیروی کی جا سکتی ہے۔
سمٹ میں حکومتی نمائندوں، سائنس دانوں، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں، بین الاقوامی اداروں، کاروباری رہنماؤں، ٹیکنالوجی ماہرین اور عالمی پائیداری سے وابستہ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
این ایس ٹی نے کہا کہ پنجاب کے اقدامات ان دیگر خطوں کے لیے مثال بن سکتے ہیں جو اسی نوعیت کے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
























Comments