آئی ایم ایف مشن آئندہ ماہ پاکستان پہنچے گا
- مشن جنوری تا جون 2026 کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا اسٹاف مشن آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا، جہاں ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت چوتھے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے پر بات چیت کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ مشن جنوری تا جون 2026 کے دوران پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا اور ای ایف ایف کے تحت آئندہ قسط جبکہ آر ایس ایف کے تحت بھی فنڈز کے اجرا کے لیے مذاکرات شروع کرے گا۔
حکام کے مطابق آئی ایم ایف مشن ٹیکس وصولیوں کے علاوہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور نجکاری پروگرام پر پیش رفت کا بھی جائزہ لے گا۔ گورننس اور انسداد بدعنوانی کے اقدامات بھی مذاکرات کا حصہ ہوں گے، بالخصوص اہم اداروں میں تقرریوں کے عمل میں شفافیت پر بات چیت کی جائے گی۔
آئی ایم ایف اسٹاف اور پاکستانی حکام کے درمیان ای ایف ایف کے چوتھے جائزے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول ایگریمنٹ (ایس ایل اے) طے پانے کے بعد معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے لینا ہوگی۔ منظوری ملنے کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت 200 ملین ڈالر تک رسائی حاصل ہوگی۔ پاکستان ان دونوں پروگراموں کے تحت پہلے ہی 4.8 ارب ڈالر وصول کر چکا ہے۔
وزارت خزانہ نے متعلقہ وزارتوں اور سرکاری ڈویژنز کو ہدایت کی ہے کہ وہ تیاری مکمل کریں اور عالمی قرض دہندہ کے ساتھ طے شدہ وعدوں پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کریں۔ امکان ہے کہ آئی ایم ایف مشن کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام کے ساتھ ملاقاتوں سے بات چیت کا آغاز کرے گا، جس کے بعد اسلام آباد میں حکومت کی اقتصادی ٹیم کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026























Comments