ایران کے حامی یمنی حوثی گروپ نے اتوار کو سعودی عرب کی آرامکو کی جازان ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ حملہ سعودی عرب کی جانب سے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کے دو روز بعد کیا گیا۔
سعودی وزارتِ توانائی نے تصدیق کی کہ جازان ریفائنری میں آگ بھڑک اٹھی تھی، جس پر بعد ازاں قابو پالیا گیا، تاہم آگ لگنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔ وزارت کے مطابق متعلقہ ادارے واقعے سے نمٹنے کے لیے ضروری کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔ ریفائنری جنوب مغربی سعودی عرب میں واقع ہے اور روزانہ 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ریفائنری کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ حوثی اس سے قبل جازان اور بحیرہ احمر کے ساحلی شہر ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا چکے ہیں۔
آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ کمپنی کی تنصیبات پر حالیہ حملوں سے پیداوار میں کچھ خلل پڑا، تاہم آپریشنز جلد بحال ہونے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق حملوں کا کمپنی کی مجموعی آپریشنل یا مالی کارکردگی پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔
یہ کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل اور عالمی معیشت میں بے چینی کا باعث بنی ہے۔ گزشتہ ماہ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان بھی کیا تھا۔


Comments