سعودی عرب، جازان میں آرامکو ریفائنری میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی جنوب مغربی شہر جازان میں واقع ریفائنری کے ایک حصے میں اتوار کی صبح آگ بھڑک اٹھی، جس پر فائر فائٹرز نے بروقت قابو پا لیا۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
وزارتِ توانائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آرامکو کی صنعتی سیکیورٹی ٹیموں نے آگ پر مکمل قابو پا لیا ہے، جبکہ متعلقہ حکام واقعے سے نمٹنے کے لیے ضروری کارروائی مکمل کر رہے ہیں۔ تاہم آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر نہیں بتائی گئی۔
جازان ریفائنری بحیرۂ احمر کے ساحل پر یمن کی سرحد کے قریب واقع ہے اور روزانہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرتی ہے۔ یہاں سے پٹرول، الٹرا لو سلفر ڈیزل اور دیگر ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یاد رہے کہ آرامکو نے 27 جولائی کو یمن کے حوثی باغیوں کے حملے کے بعد اس ریفائنری کی سرگرمیاں معطل کر دی تھیں۔ اس حملے میں ریفائنری کے انٹیگریٹڈ گیسفیکیشن کمبائنڈ سائیکل (آئی جی سی سی) کمپلیکس اور آئل ٹینک فارم کو نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت حوثیوں نے جازان اور ینبع میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
آرامکو کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حالیہ حملوں سے کمپنی کی پیداوار وقتی طور پر متاثر ہوئی، تاہم ان کا مالی یا آپریشنل اثر نمایاں نہیں تھا اور آپریشنز جلد مکمل طور پر بحال کر لیے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں نے گزشتہ ماہ بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا، جس کے باعث خطے میں توانائی کی تنصیبات اور بحری تجارت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔





















Comments