ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسا ہے، ترک وزیر خارجہ
- معاہدے کا مقصد ایران یا کسی اور ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ رکن ممالک کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانا ہے، ہاکان فیدان
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسے باہمی دفاعی معاہدے کی نوعیت رکھتا ہے، تاہم اس کا مقصد ایران یا کسی اور ملک کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ رکن ممالک کی مشترکہ سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے ہاکان فیدان نے کہا کہ اگر تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم کسی بھی ممکنہ ردعمل کی نوعیت، حد اور طریقہ کار کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک کسی رکن ملک پر حملہ نہیں ہوتا، کسی بھی ملک کو خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا۔
جمعے کے روز ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور خطے میں کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کو یقینی بنانا ہے۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے میزائل حملوں نے خلیجی ممالک کی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ہاکان فیدان نے بتایا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششیں گزشتہ دو سال اور آٹھ ماہ سے جاری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کے تحت نیٹو کی طرز پر وزرائے دفاع و خارجہ کی ایک کمیٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اس کا جنرل سیکریٹریٹ سعودی عرب میں ہوگا۔ اتحاد کے عملی امور کا تعین کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی خواہش ہے کہ یہ اتحاد صرف تین ممالک تک محدود نہ رہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض تکنیکی معاملات طے ہونے کے بعد مصر بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کا ممکنہ امیدوار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں ترکیہ، پاکستان، سعودی عرب اور مصر نے خطے کے مسائل، خصوصاً ایران سے متعلق صورتحال پر مشاورت کے لیے آر فور گروپ تشکیل دیا ہے۔ ہاکان فیدان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں سے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے قائم بین الاقوامی اتحاد میں ترکیہ کو بھی شامل ہونا چاہیے کیونکہ محفوظ بحری تجارت انقرہ کے مفادات سے براہِ راست وابستہ ہے۔


Comments