مستقبل کے پاور گرڈ کا تصور
- بجلی کے شعبے میں اگلا انقلاب بڑے پاور اسٹیشنوں سے نہیں بلکہ ذہانت اور جدید تکنیک کے ذریعے آئے گا
بجلی کی وہ صدیوں پرانی روایت ٹوٹ رہی ہے جس نے کبھی دنیا کے کارخانوں کو روشنی اور طاقت بخشی تھی۔ ایک ایسا نظام جہاں چند دیوہیکل پاور اسٹیشن خاموشی سے بجلی بناتے، تاروں کے جال اسے شہر شہر پہنچاتے اور ہم بے بس صارفین کی طرح بس سوئچ آن کرکے معاوضہ ادا کر دیتے تھے۔ یہ گزرے ہوئے کل کی کہانی ہے،آج توانائی کی دنیا ایک نئی صبح کی دہلیز پر کھڑی ہے، جہاں صارف اب محض خریدار نہیں بلکہ اس انقلابی کھیل کا سب سے متحرک کھلاڑی بن چکا ہے۔
بجلی کے شعبے میں اگلا انقلاب بڑے پاور اسٹیشنوں سے نہیں، بلکہ انٹیلی جنس (ذہانت اور جدید تکنیک) کے ذریعے آئے گا۔پاکستان اس موڑ پر تقریباً کسی خاص منصوبہ بندی کے بغیر ہی پہنچ گیا ہے۔ بڑھتے ہوئے ٹیرف (بجلی کی قیمتوں) اور نا قابلِ بھروسہ سپلائی سے تنگ آ کر گھرانوں اور کاروباروں نے حکومت کے کسی پروگرام کا انتظار کیے بغیر ہی چھتوں پر سولر (شمسی) پینل لگانے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ایسا کرکے انہوں نے روئے زمین پر ترقی پذیر دنیا کی سب سے بڑی ڈسٹری بیوٹڈ سولر مارکیٹس میں سے ایک تشکیل دے دی ہے۔ اس کے باوجود ہماری پالیسی کی بحث اب بھی نیٹ میٹرنگ، ٹیرف اور افادیت (یوٹیلیٹی) کے ریونیو جیسے سوالات میں الجھی ہوئی ہے، بجائے اس کے کہ ہم اس سے کہیں زیادہ اہم سوال پوچھیں کہ آج سے بیس سال بعد پاکستان کا الیکٹرسٹی سسٹم (بجلی کا نظام) کیسا ہونا چاہیے؟، اس سوال کا جواب بین الاقوامی سطح پر سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے حال ہی میں ایوری تھنگ ٹو گرڈ (ایکس ٹو جی) انرجی کو 2026ء کی پہلی 10 ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا ہے۔
یہ خیال سادہ بھی ہے اور انقلابی بھی۔ بجلی کے صارفین کو محض ایک غیر فعال استعمال کنندہ کے طور پر دیکھنے کے بجائے ہر انرجی ایسٹ (توانائی کے اثاثے) کو پاور سسٹم کا ایک متحرک اور فعال حصہ بنا دیا جاتا ہے۔چھتوں پر لگے سولر، بیٹریاں، الیکٹرک گاڑیاں (ای ویز)، تجارتی عمارتیں، کارخانے، زرعی پمپ اور لچکدار صنعتی لوڈز کو ڈیجیٹل طور پر ایک دوسرے سے منسلک کر دیا جاتا ہے، تاکہ جیسے ہی سسٹم کو ضرورت پڑے وہ بجلی پیدا اور ذخیرہ کر سکیں، استعمال یا پھر واپس سسٹم کو دے سکیں۔یہ گرڈ، تاروں کے ایک معمولی نیٹ ورک سے بدل کر ایک ایسا ذہین ڈیجیٹل پلیٹ فارم بن جاتا ہے جو لمحہ بہ لمحہ لاکھوں اثاثوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔یہ تصور پاکستان کے لیے انتہائی اہم نتائج کا حامل ہے۔ ملک کے پاس اس طرح کے بکھرے ہوئے اثاثے پہلے ہی بڑی تعداد میں جمع ہو چکے ہیں۔ جس چیز کی کمی ہے وہ ایک ڈیجیٹل آرکیٹیکچر (ساختی نظام)، مارکیٹ کا ڈیزائن اور اسٹوریج (ذخیرہ اندوزی) کی صلاحیت ہے، تاکہ ان سب کو ایک مربوط قومی وسیلے میں ڈھالا جا سکے۔لہٰذا اب چیلنج صرف مزید بجلی پیدا کرنا نہیں رہا، بلکہ جو کچھ پہلے سے موجود ہے اسے منظم اور ہم آہنگ کرنا ہے۔اس سے ملٹی لیٹرل ڈیولپمنٹ بنکس (کثیر الجہتی ترقیاتی بنکوں) کا کردار بھی بدل جاتا ہے۔ دہائیوں سے کامیا بی کا اندازہ مالی امداد سے بننے والے پاور اسٹیشنوں، ڈیموں اور ٹرانسمیشن لائنوں کی تعداد سے لگایا جاتا رہا ہے۔ یہ نقطہ نظر ایک مرکزی (سنٹرلائزڈ) بجلی کے نظام کی ضروریات کی عکاسی کرتا تھا، لیکن اب یہ کافی نہیں۔ اگر مستقبل کا گرڈ ایک انٹیلیجنٹ پلیٹ فارم ہے تو ترقیاتی فنانس کو بھی اب پراجیکٹس کی بجائے پلیٹ فارمز کی معاونت کرنی ہوگی۔
سرمایہ کاری میں بیٹری اسٹوریج، جدید میٹرنگ، مواصلاتی انفرااسٹرکچر، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت)، سائبر سیکیورٹی، ورچوئل پاور پلانٹس اور ایسی الیکٹرسٹی مارکیٹس کو ترجیح دینی چاہیے جو بکھرے ہوئے وسائل کے درمیان ربط پیدا کر سکیں۔اسٹوریج پر خاص توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ یہ پاکستان کا سب سے اہم بنیادی انفرااسٹرکچر بن چکا ہے۔اسٹوریج کا ہر ایک یونٹ دن کے وقت بننے والی سستی بجلی کو شام کی ضرورت میں منتقل کرکے پہلے سے نصب شدہ سولر پینلز کی افادیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ یہ ضائع ہونے والی بجلی کو کم کرتا ہے، گرڈ کے استحکام کو مضبوط بناتا اور توازن برقرار رکھنے کی لاگت کو گھٹاتا ہے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کو کم کردیتا ہے۔ مناسب اسٹوریج کے بغیر اضافی قابلِ تجدید (ری نیو ایبل) بجلی فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بنتی ہے کیونکہ سسٹم اسے بروقت اور موثر طریقے سے استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بڑے انفرااسٹرکچر کے منصوبے اب بیکار یا منسوخ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کو آئندہ بھی پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کے بڑے منصوبوں، موثر تھرمل صلاحیت اور افادیت پر مبنی بڑے پیمانے کی قابلِ تجدید توانائی کی ضرورت رہے گی۔ تاہم ان کا حکمتِ عملی سے متعلق کردار اب بدل رہا ہے۔گرڈ کو روزانہ کی بنیاد پر متوازن رکھنے کا بوجھ اٹھانے کے بجائے انہیں بیک اپ اور ہنگامی صلاحیت فراہم کرنی چاہیے، جبکہ اسٹوریج، لچکدار مانگ اور بکھرے ہوئے وسائل روزمرہ کے نظام کو سنبھالیں۔
اتنا ہی اہم پاکستان کے ادارہ جاتی فریم ورک (انسٹی ٹیوشنل آرکیٹیکچر) کا ارتقاء بھی ہے۔ ”کمپیٹیٹو ٹریڈنگ بائی لیٹرل کانٹریکٹ مارکیٹ“(سی ٹی بی سی ایم) جیسی اصلاحات کی پیشرفت لائقِ تحسین ہے، لیکن وہ اب بھی ایک ایسی مارکیٹ تک محدود ہیں جو صرف چند پیدا کنندگان اور خریداروں کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی۔اب ابھرنے والے الیکٹرسٹی سسٹم میں لاکھوں فعال شرکاء شامل ہو سکتے ہیں۔ موجودہ ادارے بشمول ریگولیٹرز، مارکیٹ آپریٹرز اور پلاننگ باڈیز ایک طرفہ بجلی کی فراہمی اور مرکزی پیداوار کے لیے بنائے گئے تھے۔مسئلہ ان اداروں کی صلاحیت کا نہیں ہے بلکہ ان کے ڈھانچے کی مناسبت (انتقالِ صلاحیت) کا ہے۔ ہر ٹیکنالوجی کا انقلاب بالآخر نئے مارکیٹ قوانین، نئے اداروں اور ایک نئے اسٹریٹجک وژن کا تقاضا کرتا ہے۔لہٰذا پاکستان کو اپنے اصلاحاتی عمل کے اگلے مرحلے کو محض بجلی بنانے کے منصوبوں کے بجائے ایک ”قومی ذہین انرجی پلیٹ فارم“ کے گرد ترتیب دینا چاہیے۔یہ پروگرام اسٹوریج، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، لچکدار مارکیٹ، ورچوئل پاور پلانٹس اور مقامی مینوفیکچرنگ (صنعتی پیداوار) کو ایک واحد قومی مشن میں یکجا کر سکتا ہے۔ یہ الگ تھلگ منصوبوں کے بجائے پورے نظامِ برق کی تبدیلی پر توجہ مرکوز کرکے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی ائی بی) اور کلائمیٹ فنڈز کے ساتھ تعاون کا ایک بہترین فریم ورک بھی فراہم کرے گا۔
توانائی کے اس سستے اور جدید مرحلے میں آگے نکلنے والے ممالک ضروری نہیں کہ وہی ہوں جو سب سے بڑے سولر پارکس بناتے ہیں بلکہ وہ ہوں گے جو سب سے زیادہ ذہین (انٹیلیجنٹ) الیکٹرسٹی سسٹم تیار کریں گے۔پاکستان کے پاس اس کی فزیکل فاؤنڈیشن پہلے سے موجود ہے۔ اگلا قدم ان اثاثوں کو اسٹوریج، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور جدید مارکیٹ ڈیزائن کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان عالمی انرجی ٹرانزیشن (توانائی کی تبدیلی) پر صرف ردِعمل دینے کے بجائے اس کی سمت متعین کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026ء
























Comments