جاپان امریکا ین کی گرتی قدر روکنے کیلئے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرینگے، ذرائع
- مارکیٹ ذرائع کے مطابق جاپانی اور امریکی حکام نے ین کی خریداری کے کئی ادوار میں حصہ لیا
دو جاپانی حکومتی عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ جاپان کے وزیر خزانہ ساتسوکی کاتایاما پیر کو اعلان کریں گے کہ جاپان اور امریکا نے 40 برس کی کم ترین سطح تک گرنے والے ین کو سہارا دینے کے لیے زرمبادلہ کی منڈی میں مشترکہ مداخلت کی ہے۔ جاپانی حکام کے مطابق دونوں ممالک ضرورت سے زیادہ کمزور ہونے والے ین کی قدر کو روکنے کے لیے قریبی تعاون کر رہے ہیں اور کارروائی تاحال جاری ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق جاپانی اور امریکی حکام نے ین کی خریداری کے کئی ادوار میں حصہ لیا، جو 2011 کے بعد دونوں ممالک کی پہلی مشترکہ مداخلت ہے۔ رائٹرز کے مطابق جاپان نے جمعرات کو نیویارک ٹریڈنگ کے دوران ڈالر فروخت کرکے ین خریدے، جبکہ بینک آف جاپان کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ین کو سہارا دینے کے لیے تقریباً 58.97 ارب ڈالر تک فروخت کیے گئے۔
یہ مداخلت اس وقت کی گئی جب بینک آف جاپان نے جمعہ کو اپنی مانیٹری پالیسی برقرار رکھتے ہوئے عندیہ دیا کہ جلد شرح سود میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو کے سخت گیر مؤقف کے باعث دونوں ممالک کے درمیان شرح سود کا فرق بڑھنے سے ڈالر کے مقابلے میں ین پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔
جاپان کے اعلیٰ کرنسی سفارت کار اتسوشی میمورا نے کہا کہ حکومت کرنسی پالیسی کو مانیٹری پالیسی کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں آگے بڑھائے گی۔ ادھر امریکی محکمہ خزانہ نے بھی متعدد بینکوں کو ممکنہ مزید مداخلت کے لیے تیار رہنے کا اشارہ دیا۔
ماہرین کے مطابق واشنگٹن اور ٹوکیو کے درمیان یہ تعاون امریکی بانڈز کی بڑھتی ہوئی ییلڈز اور مالیاتی منڈیوں میں ممکنہ بے چینی کو روکنے کی مشترکہ کوشش کا حصہ ہے، جبکہ جاپانی حکومت نے مالیاتی استحکام پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔





























Comments