پاکستان اور اردن کے وزرائے خارجہ کا غزہ بحران پر تبادلہ خیال
- دونوں جانب سے بحران کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی حمایت کا اعادہ کیا گیا
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے منگل کو اپنے اردنی ہم منصب ایمن الصفدی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے فلسطین کی بگڑتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور بحران کے حل کے لیے مربوط سفارتی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایک بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تسلسل پر شدید تشویش ظاہر کی، جن میں فضائی حملوں میں اضافہ، زمینی کارروائیاں اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے بار بار کی جانے والی بڑے پیمانے کی دراندازیوں اور فلسطینی نمازیوں پر عائد پابندیوں کی بھی سخت مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مقدس مقام کے تقدس کی خلاف ورزی، کشیدگی میں اضافے اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران اسحاق ڈار اور ایمن الصفدی نے اردن کی اس تجویز پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کے تحت عرب اور اسلامی ممالک کے ایک گروپ کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ بدلتی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور سفارتی کوششوں و اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
ایمن الصفدی نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ جاری سفارتی اقدامات مثبت نتائج برآمد کریں گے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کے لیے اسلام آباد کے دیرینہ مؤقف کو دہرایا، جس کی بنیاد دو ریاستی حل کے نفاذ پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، جغرافیائی طور پر مربوط اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
























Comments