نوجوانوں کے احتجاج کے بعد مودی کا بھارت میں امتحانی نظام فول پروف بنانے پر زور
- دہلی پولیس کے مطابق جھڑپوں میں تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس و سکیورٹی اہلکار اور 60 مظاہرین شامل ہیں
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے منگل کے روز ملک میں فول پروف سرکاری امتحانی نظام قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز پہلے ملک میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ”کاکروچ تحریک“ کے حامیوں کی جانب سے سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف پارلیمنٹ کی جانب احتجاجی مارچ کے دوران پولیس سے جھڑپیں ہوئی تھیں۔
کابینہ کے ایک وزیر کے مطابق مودی نے مئی میں میڈیکل کالجوں کے قومی داخلہ امتحان کے سوالیہ پرچے لیک ہونے کے بعد پہلی بار اس معاملے پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ اس اسکینڈل پر عوامی غم و غصہ ان کی تیسری مدتِ اقتدار کا سب سے بڑا سیاسی چیلنج بن چکا ہے۔
پیر کو ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے، جبکہ بعض طلبہ نے مبینہ طور پر خودکشی بھی کر لی۔
دہلی پولیس کے مطابق وسطی دہلی میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران تقریباً 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اور سکیورٹی اہلکار جبکہ 60 مظاہرین شامل ہیں۔
خود کو ’’کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)‘‘ کہنے والی تنظیم کے بانی نے دعویٰ کیا کہ پیر کی جھڑپوں میں زخمی ہونے والے 150 سے زائد مظاہرین مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
رائٹرز زخمیوں کی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ پیر کو ہونے والی جھڑپوں کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور کیرن رجیجو کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے حکمران اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ کو بتایا کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات ملتے ہی حکومت نے فوری کارروائی کی، 13 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔
رجیجو نے مزید بتایا کہ مودی نے کہا کہ متاثرہ امتحان دوبارہ کامیابی سے منعقد کیا گیا اور اس کے نتائج کے اعلان میں بھی کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔
رجیجو کے مطابق وزیراعظم نے زور دیا کہ ”نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ سب متحد ہو کر سخت اقدامات کو یقینی بنائیں، ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے اور ایسا فول پروف امتحانی نظام تشکیل دیا جائے جس میں بے ضابطگی کی کوئی گنجائش نہ رہے۔“
پارلیمنٹ کی جانب دوبارہ مارچ نہیں کریں گے، مظاہرین
وزیراعظم نریندر مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اعلان کیا کہ وہ حکومت مخالف احتجاج جاری رکھے گی، تاہم پارلیمنٹ کی جانب دوبارہ مارچ نہیں کرے گی، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس کے حامیوں پر ایک بار پھر پولیس تشدد کیا جا سکتا ہے۔
پیر کو دہلی اور اس کے نواحی علاقوں سے ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے لیے جمع ہوئے تھے۔ یہ احتجاج اس تحریک کا حصہ تھا جس کا آغاز چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر طنزیہ مہم کے طور پر ہوا تھا۔
سی جے پی کی چند ماہ پرانی اس تحریک کو جنریشن زیڈ سے تعلق رکھنے والے لاکھوں نوجوان بھارتیوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے، جو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ مئی میں سوالیہ پرچوں کا لیک ہونا تعلیمی نظام میں گہری جڑیں رکھنے والی بدعنوانی کا ثبوت ہے۔
منگل کو وسطی دہلی کے جنتَر منتر احتجاجی مقام پر تقریباً 500 مظاہرین جمع ہوئے، جہاں ہلکی بارش کے باوجود انہوں نے نعرے بازی جاری رکھی۔ اس دوران سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، نیم فوجی دستے مختلف علاقوں میں گشت کرتے رہے جبکہ بیریئرز کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے کہا کہ تنظیم پارلیمنٹ کی جانب مارچ دوبارہ شروع نہیں کرے گی، کیونکہ وہ مزید نوجوانوں کو زخمی ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ انہوں نے اپنے حامیوں، بالخصوص خواتین سے معذرت بھی کی اور الزام لگایا کہ پیر کی جھڑپوں کے دوران مرد پولیس اہلکاروں نے خواتین مظاہرین پر بھی تشدد کیا۔
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو بارہا انتباہ کے باوجود مظاہرین نے ”بدنظمی، جارحانہ اور پرتشدد رویہ“ اختیار کیا اور نافذ پابندیوں کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی۔
اس تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے اس کی حمایت کرتے ہوئے 28 جون سے بھوک ہڑتال شروع کی۔ تاہم پولیس نے ہفتے کے روز انہیں زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔
عدالت نے سونم وانگچک کو نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی
منگل کو دہلی ہائی کورٹ نے میگسیسے ایوارڈ یافتہ سونم وانگچک کو سرکاری اسپتال سے نجی اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دے دی۔ یہ فیصلہ ان کی اہلیہ کی درخواست پر کیا گیا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
عدالت کا یہ حکم مظاہرین کے تین مطالبات میں سے ایک کی تکمیل ہے۔
ادھر کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بتایا کہ وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے پیر کو تنظیم کے دو رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ان کے مطالبات پر حکومت کے اندر مشاورت کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔
مظاہرین کے مطالبات میں سونم وانگچک کی رہائی، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ اور سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے بعد خودکشی کرنے والے تقریباً ایک درجن طلبہ کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے (تقریباً ایک لاکھ چار ہزار امریکی ڈالر) بطور معاوضہ ادا کرنا شامل ہے۔
منگل کو وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا نے دہلی کے ایک سرکاری اسپتال کا دورہ کیا اور وہاں زیرِ علاج مظاہرین سے ملاقات کی۔
کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت نوجوان بھارتیوں میں پائی جانے والی بے چینی کی عکاس ہے، جن کا کہنا ہے کہ ملک میں نہ صرف روزگار کے مواقع محدود ہیں بلکہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات بھی بار بار پیش آتے ہیں۔
ابھیجیت دپکے اور ان کے حامی گزشتہ ماہ سے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے دھرنا دیے ہوئے ہیں۔























Comments