نامکمل گیس اصلاحات کی بھاری قیمت
آر ایل این جی کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافہ محض محض ایک اور معمول کی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نہیں ہے۔ یہ گیس شعبے کو درپیش ان بنیادی خامیوں کی یاد دہانی ہے جو مسلسل مسائل کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ پالیسی میں بگاڑ، معاہدوں کی سخت شرائط اور انتظامی فیصلہ سازی میں تاخیر نے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کو مزید ناقابلِ برداشت بنادیا ہے۔
گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافے کے بعد آر ایل این جی کی نئی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ یہ اضافہ عالمی سطح پر گیس کی خریداری کی لاگت میں نمایاں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے اثرات پہلے ہی بجلی شعبے میں نظر آنا شروع ہوگئے جہاں آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت چند ہفتوں کے اندر دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہے، اگرچہ درآمدی ایندھن کی قیمتیں پاکستان کے اختیار میں نہیں، تاہم ان عالمی جھٹکوں کا بوجھ مقامی صارفین تک کس حد تک منتقل ہوتا ہے، یہ بڑی حد تک ملکی پالیسی فیصلوں پر منحصر ہے۔
اسی طرح تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ آڈیٹر جنرل نے نشاندہی کی کہ آر ایل این جی کی منتقلی کا بوجھ اب بھی ان صارفین کو برداشت کرنا پڑرہا ہے جنہوں نے نہ تو اس گیس کا معاہدہ کیا اور نہ ہی اسے استعمال کیا۔ آڈٹ رپورٹ نے ایک بار پھر اس دیرینہ طریقہ کار کو اجاگر کیا جس کے تحت گھریلو صارفین کو رعایتی نرخوں پر فراہم کی جانے والی یا اپنے اصل صارفین سے ہٹا کر کہیں اور منتقل کی جانے والی آر ایل این جی کی مالی لاگت بالآخر وسیع تر گیس صارفین پر ڈال دی جاتی ہے۔ اس طرح کی کراس سبسڈی شفافیت کو متاثر کرتی ہے اور قیمتوں کے ان اشاروں کو کمزور کرتی ہے جو وسائل کے مؤثر استعمال اور درست تقسیم کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال ملک کے مہنگے ترین توانائی ذرائع میں سے ایک کے انتظام میں جوابدہی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھاتی ہے۔
بہرحال معاملہ صرف ایک ماہ کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن یا آڈٹ کی ایک نشاندہی تک محدود نہیں۔ یہ اس سے کہیں زیادہ گہرے انتظامی اور حکمرانی کے مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جس سے نمٹنے میں آنے والی حکومتیں مسلسل مشکلات کا شکار رہی ہیں۔پاکستان کئی برسوں سے ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کے تصور پر بحث کرتا رہا ہے جس کا مقصد مقامی گیس اور درآمدی آر ایل این جی کو ایک مشترکہ نظام میں شامل کرکے قیمتوں کے تعین کو زیادہ منصفانہ اور مؤثر بنانا تھا۔اس کا مقصد واضح تھا: مختلف صارفین کو فراہم کی جانے والی گیس کی اقسام کے درمیان غیر ضروری فرق ختم کرنا، مارکیٹ کی کارکردگی بہتر بنانا اور مخصوص صارفین کو ترجیحی بنیادوں پر گیس کی فراہمی سے پیدا ہونے والے مسائل اور بگاڑ کے امکانات کو کم کرنا۔
تاہم قانون سازی میں پیش رفت کے باوجود ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کا نفاذ اب بھی جزوی طور پر ہی ہوسکا ہے۔ مارکیٹ کے بڑے حصے اب بھی پرانے قیمتوں کے نظام کے تحت کام کررہے ہیں جبکہ درآمدی آر ایل این جی کی فراہمی زیادہ تر مخصوص صارفین تک محدود ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسے بکھرے ہوئے قیمتوں کے نظام کی صورت میں نکلا جہاں کچھ صارفین کو مقامی گیس پر بھاری سبسڈی حاصل ہے جبکہ دیگر صارفین کو درآمدی ایندھن کی مکمل لاگت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ایسا نظام نہ تو معاشی حقائق کی عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی گیس کے محتاط استعمال اور ایندھن کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ترغیبات فراہم کرتا ہے۔
ویٹڈ ایوریج کاسٹ آف گیس کو مکمل طور پر نافذ کرنے میں ناکامی نے گردشی قرضے کے انتظام کو بھی مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں مسلسل کمی اور درآمدی ایل این جی پر بڑھتے انحصار کے باعث مختلف متوازی قیمتوں کے نظام کو برقرار رکھنا مالی عدم توازن میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔آر ایل این جی کی ہر منتقلی ہر وہ تقسیم جو مارکیٹ کے اصولوں اور طلب و رسد کی حرکیات کے بجائے انتظامی صوابدید کی بنیاد پر کی جاتی ہے اور ٹیرف کو حقیقی لاگت کے مطابق کرنے میں ہر تاخیر، بالآخر چھپے ہوئے مالی بوجھ کی ایک نئی تہہ کا اضافہ کرتی ہے جس کی وصولی آخرکار صارفین یا ٹیکس دہندگان سے ہی کرنا پڑتی ہے۔
حکومت کے توانائی اصلاحات کے وسیع تر ایجنڈے نے بلاشبہ کئی شعبوں میں پیش رفت کی ہے، خاص طور پر پاور سیکٹر کے نقصانات کو کم کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے میں۔ تاہم گیس کے شعبے کی اصلاحات تاحال واضح طور پر ادھوری ہیں۔ وسائل کی تقسیم میں نااہلی کا تسلسل اور درآمدی ایندھن پر بڑھتا ہوا انحصار ان بہت سے فوائد کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کررہا ہے۔ ایک مربوط پرائسنگ فریم ورک کے بغیر ٹیرف میں وقتی ردوبدل صرف علامات کا علاج ہے جبکہ اصل بیماری بدستور موجود ہے۔
اس لیے پالیسی سازوں کے سامنے اصل چیلنج صرف یہ نہیں ہے کہ صارفین کو بین الاقوامی ایل این جی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے کیسے بچایا جائے بلکہ اصل مسئلہ ایک شفاف اور اصولوں پر مبنی گیس مارکیٹ قائم کرنا ہے جہاں قیمتیں لاگت کی درست عکاسی کریں، سبسڈیز ٹیرف میں چھپانے کے بجائے واضح طور پر بجٹ کا حصہ ہوں اور معاہدوں کی پاسداری ان صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر کی جائے جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
“پاکستان مزید ایک دہائی تک جزوی اور وقتی اصلاحات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ درآمد شدہ آر ایل این جی کی معاشیات نے ملکی گیس کے منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے۔ پالیسی، ضابطہ اخلاق اور قیمتوں کے تعین کے میکانزم کو اسی کے مطابق بدلنا ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، آر ایل این جی کی قیمتوں میں ہر نیا نوٹیفکیشن ایک الگ اور معمولی تبدیلی کے بجائے ایک ایسے اصلاحاتی ایجنڈے کے ثبوت کے طور پر سامنے آتا رہے گا جو بدستور ادھورا اور مایوس کن ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026























Comments