امریکی سپریم کورٹ نے فیڈ گورنر لیزا کوک کی برطرفی کی ٹرمپ کی غیرمعمولی کوشش مسترد کر دی
- اپنی دوسری صدارتی مدت میں بھی ٹرمپ مختلف معاملات میں صدارتی اختیارات کی حدود کو مسلسل چیلنج کرتے رہے ہیں
امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ کو فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کوک کو برطرف کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ یوں عدالت نے ریپبلکن صدر کی جانب سے مرکزی بینک کی طویل عرصے سے برقرار خودمختاری کو چیلنج کرنے کی غیرمعمولی کوشش کو مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ نے 5 کے مقابلے میں 4 ووٹوں سے فیصلہ سناتے ہوئے ٹرمپ کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا، جس کے ذریعے وہ 1913 میں کانگریس کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے قیام کے بعد کسی فیڈ عہدیدار کو برطرف کرنے والے پہلے امریکی صدر بننا چاہتے تھے۔ اپنی دوسری صدارتی مدت میں بھی ٹرمپ متعدد معاملات میں صدارتی اختیارات کی حدود کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔
عدالت کے فیصلے کی حمایت کرنے والوں میں چیف جسٹس جان رابرٹس، قدامت پسند جج بریٹ کیوانا اور عدالت کے تینوں لبرل جج شامل تھے، جبکہ قدامت پسند جج کلیرنس تھامس، سیموئیل الیٹو، نیل گورسچ اور ایمی کونی بیرٹ نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
فیصلہ تحریر کرنے والے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ ٹرمپ ”لیزا کوک کو وہ قانونی طریقہ کار اور تحفظات فراہم کرنے میں ناکام رہے جن کی انہیں قانون کے تحت ضمانت حاصل تھی۔ ان تحفظات کے بغیر وہ صدر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا مناسب انداز میں دفاع نہیں کر سکتی تھیں۔“
رابرٹس نے مزید کہا کہ فیڈرل ریزرو کے گورنرز صدر کی مرضی پر اپنے عہدوں پر فائز نہیں ہوتے بلکہ ان کی تقرری 14 سالہ مرحلہ وار مدت کے لیے کی جاتی ہے، اور انہیں صرف معقول قانونی وجہ (’فور کاز‘) کی بنیاد پر ہی عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
گزشتہ سال اگست میں ٹرمپ نے لیزا کوک کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہوئے ان پر رہائشی قرض (مارگیج) میں مبینہ فراڈ کے ایسے الزامات عائد کیے تھے، جن کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا۔ لیزا کوک، فیڈرل ریزرو کی گورنر بننے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات دراصل مالیاتی پالیسی پر اختلاف کی بنا پر انہیں عہدے سے ہٹانے کا محض ایک بہانہ تھے۔
”میں نے سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا“
لیزا کوک نے پیر کو جاری اپنے بیان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اس اصول کی توثیق ہوتی ہے کہ فیڈرل ریزرو سیاسی مداخلت سے آزاد رہتے ہوئے خودمختار انداز میں مالیاتی پالیسی کے فیصلے کرنے کا پابند ہے۔
انہوں نے کہا، ”یہ معاملہ کبھی بھی ان رہائشی قرض کی دستاویزات کا نہیں تھا جن پر میں نے فیڈرل ریزرو کی گورنر بننے سے کئی سال پہلے دستخط کیے تھے۔ یہ محض ایک گھڑا ہوا جواز تھا تاکہ مجھے اس لیے عہدے سے ہٹایا جا سکے کہ میں نے سیاسی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور شرح سود سے متعلق فیصلے صرف اس بنیاد پر کیے کہ امریکی عوام کے بہترین مفاد میں کیا ہے۔“
سپریم کورٹ نے محکمہ انصاف کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں ایک وفاقی جج کے اس حکم کو معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی، جس کے تحت ٹرمپ کو لیزا کوک کو فوری طور پر برطرف کرنے سے روکا گیا تھا، جبکہ ان کی برطرفی کے خلاف دائر قانونی درخواست ابھی زیر سماعت ہے۔ لیزا کوک نے ٹرمپ کے تمام الزامات کی تردید کی۔
تاہم، اسی روز ایک دوسرے مقدمے میں سپریم کورٹ نے فیڈرل ٹریڈ کمیشن (ایف ٹی سی) کی ڈیموکریٹ رکن ریبیکا سلاٹر کی برطرفی کے ٹرمپ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ اس فیصلے سے وفاقی حکومت پر صدر کے اختیارات میں مزید اضافہ ہوا اور عدالت نے 1935 کی اس نظیر کو بھی کالعدم قرار دے دیا، جس کے تحت کانگریس کو بعض خودمختار ریگولیٹری اداروں کے سربراہان کو صدر کی صوابدید پر برطرف کیے جانے سے تحفظ فراہم کرنے کا اختیار حاصل تھا۔
پیر کو لیزا کوک کے حق میں آنے والا یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 20 فروری کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عدالت نے ایک اور اہم معاشی مقدمے میں ٹرمپ کے بیشتر عالمی ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس فیصلے پر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
فیڈرل ریزرو دنیا کا سب سے اہم مرکزی بینک ہے، جو نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی معیشت میں قرض لینے کی لاگت اور شرح سود پر اثرانداز ہوتا ہے۔ جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ مسلسل اس ادارے کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔
لیزا کوک کی مدتِ ملازمت 2038 تک جاری رہنی تھی۔ انہیں 2022 میں اس وقت کے ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن نے فیڈرل ریزرو کا گورنر مقرر کیا تھا۔
ٹرمپ کی جانب سے لیزا کوک کو ہدف بنانا اور جنوری میں ان کی انتظامیہ کی طرف سے اس وقت کے فیڈ چیئرمین جیروم پاول کے خلاف شروع کی گئی فوجداری تحقیقات، جو بعد میں ختم کر دی گئیں، فیڈرل ریزرو کے قیام کے بعد اس کی خودمختاری کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہیں۔
فیڈرل ریزرو ایکٹ
1913 میں فیڈرل ریزرو کے قیام کے وقت کانگریس نے فیڈرل ریزرو ایکٹ منظور کیا تھا، جس میں مرکزی بینک کو سیاسی مداخلت سے محفوظ رکھنے کے لیے متعدد قانونی تحفظات شامل کیے گئے تھے۔ اس قانون کے مطابق صدر کسی گورنر کو صرف ”معقول قانونی وجہ“ (فارکاز) کی بنیاد پر ہی برطرف کر سکتا ہے، تاہم قانون میں اس اصطلاح کی واضح تعریف یا برطرفی کا طریقۂ کار بیان نہیں کیا گیا۔
اگرچہ سپریم کورٹ نے پیر کے فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا کہ کون سی وجوہات کسی صدر کو لیزا کوک یا فیڈرل ریزرو کے کسی دوسرے بورڈ رکن کو برطرف کرنے کا جواز فراہم کر سکتی ہیں، تاہم چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ مرکزی بینک کی تاریخ اور اس کی خودمختاری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی وجہ کا معیار انتہائی مضبوط اور سنجیدہ ہونا چاہیے۔
رابرٹس نے اپنے فیصلے میں لکھا، ”اگر ایسے قانونی تحفظات موجود نہ ہوں تو کسی بھی حقیقی یا مبینہ غلطی، خواہ ماضی کی ہو یا حال کی، کو گورنر کو برطرف کرنے کے لیے آسانی سے بہانہ بنایا جا سکتا ہے۔ گورنر خود بھی اس حقیقت سے آگاہ ہوگا، اور یہ احساس لازماً اس کے خیالات کے اظہار اور ووٹ دینے کے انداز پر اثر انداز ہوگا۔ کانگریس جس خودمختاری کو محفوظ رکھنا چاہتی تھی، اس کے لیے اس سے زیادہ نقصان دہ کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی۔“
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگرچہ مواخذے کے علاوہ فیڈرل ریزرو بورڈ کے کسی رکن کو برطرف کرنے کا اختیار صرف صدر کے پاس ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ صدر کسی بھی وجہ یا بغیر کسی وجہ کے ایسا فیصلہ کر سکتا ہے۔
رابرٹس نے لکھا، ”بلاشبہ کانگریس چاہتی تو صدر کو فیڈرل ریزرو کے گورنرز کو اپنی مرضی سے برطرف کرنے کا اختیار دے سکتی تھی، یا برطرفی کے فیصلے کو عدالتی نظرثانی سے مستثنیٰ قرار دے سکتی تھی، لیکن کانگریس نے ان میں سے کوئی بھی راستہ اختیار نہیں کیا۔“
ٹرمپ نے 25 اگست 2025 کو سوشل میڈیا پر برطرفی کا خط جاری کرتے ہوئے لیزا کوک کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ اس خط میں فیڈرل ہاؤسنگ فنانس ایجنسی کے سربراہ بل پلٹے، جو ٹرمپ کے نامزد کردہ عہدیدار ہیں، کی جانب سے سامنے لائے گئے ان الزامات کا حوالہ دیا گیا تھا جو مشی گن کے شہر این آربر اور اٹلانٹا میں لیزا کوک کی ملکیت گھروں سے متعلق مبینہ رہائشی قرض فراڈ سے وابستہ تھے۔
بل پلٹے نے پیر کو سوشل میڈیا پر لکھا، ”جیسا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں، میرا یقین ہے کہ لیزا کوک پر رہائشی قرض فراڈ کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جائے گی۔“
گزشتہ سال ستمبر میں امریکی ڈسٹرکٹ جج جیا کاب نے قرار دیا تھا کہ ٹرمپ نے لیزا کوک کو پیشگی نوٹس اور سماعت کا موقع دیے بغیر برطرف کرنے کی کوشش کر کے غالباً امریکی آئین کی پانچویں ترمیم کے تحت انہیں حاصل قانونی تقاضوں کے حق کی خلاف ورزی کی ہے۔
جج نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ لیزا کوک کے خلاف عائد کیے گئے الزامات، جو ان کی فیڈرل ریزرو میں تقرری سے پہلے کے مبینہ طرزِ عمل سے متعلق ہیں، فیڈرل ریزرو ایکٹ کے تحت انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے قانونی طور پر کافی بنیاد فراہم نہیں کرتے۔
بعد ازاں ڈسٹرکٹ آف کولمبیا سرکٹ کی امریکی اپیل عدالت نے بھی جج جیا کاب کے حکم کو معطل کرنے کی ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی۔
سیاست دانوں کی خواہشات سے بالاتر
ٹرمپ مسلسل فیڈرل ریزرو پر دباؤ ڈالتے رہے ہیں کہ وہ افراطِ زر پر قابو پانے کی کوششوں کے باوجود شرحِ سود میں مرکزی بینک کی موجودہ رفتار سے کہیں زیادہ تیزی اور زیادہ کمی کرے۔ انہوں نے فیڈ کے چیئرمین جیروم پاول کو اپنی خواہشات کے مطابق عمل نہ کرنے پر متعدد بار سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔
لیزا کوک کا مقدمہ اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ اس کے نتائج فیڈرل ریزرو کی اس صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ آیا وہ سیاست دانوں کی خواہشات سے آزاد ہو کر شرحِ سود کا تعین کر سکتا ہے یا نہیں۔ ماہرین کے نزدیک کسی بھی مرکزی بینک کے لیے افراطِ زر کو قابو میں رکھنے جیسے بنیادی اہداف حاصل کرنے کے لیے ایسی خودمختاری ناگزیر ہوتی ہے۔
فیڈرل ریزرو کی گورنر کی حیثیت سے لیزا کوک مرکزی بینک کے سات رکنی بورڈ آف گورنرز اور ملک بھر میں قائم 12 علاقائی فیڈرل ریزرو بینکوں کے سربراہان کے ساتھ مل کر امریکی مالیاتی پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کرتی ہیں۔
ماضی کے متعدد مقدمات میں سپریم کورٹ مختلف وفاقی اداروں کی صدارتی کنٹرول سے آزادی کو محدود کرنے کے فیصلے دے چکی ہے، اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عدالت جلد ہی 1935 کی اس اہم عدالتی نظیر کو بھی ختم کر سکتی ہے، جس نے کئی دہائیوں سے خودمختار وفاقی اداروں کے سربراہان کو صدارتی صوابدید پر برطرف کیے جانے سے تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔
تاہم گزشتہ سال عدالت نے عندیہ دیا تھا کہ ممکن ہے وہ فیڈرل ریزرو کو اس معاملے میں ایک استثنا سمجھے۔ مئی 2025 میں ایک مقدمے کے فیصلے میں، جس کے تحت ٹرمپ کو وفاقی لیبر بورڈز کے دو ڈیموکریٹ ارکان کو برطرف کرنے کی اجازت دی گئی تھی، سپریم کورٹ نے یہ بھی قرار دیا تھا کہ فیڈرل ریزرو کا ادارہ اپنی منفرد ساخت اور تاریخی روایت کے باعث دیگر وفاقی اداروں سے مختلف حیثیت رکھتا ہے۔
صدارتی اختیارات کی حدود
لیزا کوک کا مقدمہ اور عالمی ٹیرف سے متعلق قانونی تنازع، دونوں ہی ان عدالتی چیلنجز کا حصہ ہیں جو جنوری 2025 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کی جانب سے صدارتی اختیارات کی حدود کو غیرمعمولی حد تک وسعت دینے کی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آئے۔
ٹرمپ نے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے امیگریشن، فوجی خدمات، وفاقی ملازمتوں اور متعدد دیگر شعبوں سے متعلق پالیسیوں میں بھی تیزی سے تبدیلیاں کیں۔ اب تک سپریم کورٹ نے ابتدائی مرحلے پر قانونی چیلنجز کے باوجود ان میں سے بیشتر اقدامات کو برقرار رکھا ہے، تاہم عالمی ٹیرف سے متعلق فیصلہ اس سلسلے میں ایک نمایاں استثنا ثابت ہوا۔
ٹیرف کے مقدمے میں عدالت نے ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کے ایک اہم ستون کو مسترد کرتے ہوئے ان محصولات کو کالعدم قرار دیا، جو انہوں نے 1977 کے اس قانون کے تحت تقریباً تمام امریکی تجارتی شراکت داروں پر عائد کیے تھے، جو دراصل صرف قومی ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس نوعیت کا اقدام اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے نہیں کیا تھا۔
اس فیصلے پر ٹرمپ نے شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ کے بعض ججوں پر ”انتہائی شرم“ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے نامزد کردہ دو ججوں سمیت ان ریپبلکن ججوں کو، جنہوں نے ان کے خلاف فیصلہ دیا، ”احمق“ اور ”ڈیموکریٹس کے کٹھ پتلی“ قرار دیا۔
دیگر قانونی تنازعات کی طرح لیزا کوک کے مقدمے میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے صدارتی اختیارات کی وسیع تشریح اختیار کی۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ اگر صدر برطرفی کی کوئی وجہ بیان کر دے تو یہ فیصلہ ان کے ”نا قابلِ عدالتی نظرثانی صوابدیدی اختیار“ کے دائرے میں آتا ہے۔
اس کے برعکس لیزا کوک کے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ اگر صدر کو ایسا اختیار دے دیا گیا تو فیڈرل ریزرو کی خودمختاری عملاً ختم ہو جائے گی، مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی پیدا ہوگی اور مستقبل کے صدور کے لیے مالیاتی پالیسی کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
پاول کے خلاف تحقیقات
لیزا کوک کی طرح جیروم پاول نے بھی ان کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی کو محض ایک بہانہ قرار دیا تھا۔ یہ تحقیقات فیڈرل ریزرو کے واشنگٹن ہیڈکوارٹر میں واقع دو تاریخی عمارتوں کی تزئین و آرائش کے منصوبے میں لاگت بڑھ جانے سے متعلق تھیں، تاہم پاول کا مؤقف تھا کہ اصل مقصد مالیاتی پالیسی پر اثرانداز ہونا تھا۔
13 مارچ کو ایک وفاقی جج نے ٹرمپ کے مقرر کردہ پراسیکیوٹر کی جانب سے پاول کے خلاف جاری کیے گئے طلبی نوٹس معطل کر دیے۔ جج نے پاول کے اس مؤقف سے اتفاق کیا کہ یہ تحقیقات دراصل مرکزی بینک کو شرحِ سود میں کمی پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ایک نامناسب کوشش تھیں۔ بعد ازاں 24 اپریل کو پراسیکیوٹر نے یہ تحقیقات ختم کر دیں۔
ٹرمپ متعدد مواقع پر جیروم پاول کو ”بے وقوف“، ”بہت بڑا ناکام شخص“ اور ”انتہائی نااہل“ قرار دے چکے ہیں۔
ٹرمپ نے جنوری میں کیون وارش کو فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے طور پر نامزد کیا۔ وارش اس سے قبل فیڈرل ریزرو کے بورڈ آف گورنرز کے رکن رہ چکے ہیں، جبکہ ان کے سسر رون لاوڈر ٹرمپ کے ایک بااثر اور دولت مند حامی سمجھے جاتے ہیں۔
کیون وارش سے ان کے عہدے کا حلف سپریم کورٹ کے قدامت پسند جج کلیرنس تھامس نے لیا، جبکہ تقریبِ حلف برداری میں سپریم کورٹ کے ایک اور قدامت پسند جج بریٹ کیوانا بھی شریک تھے۔
بعد ازاں محکمہ انصاف نے جیروم پاول کے خلاف تحقیقات اس وقت ختم کر دیں جب ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے اس انکوائری کو فیڈرل ریزرو کی خودمختاری پر ”بے بنیاد حملہ“ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جب تک یہ تحقیقات ختم نہیں کی جاتیں وہ کیون وارش کی سینیٹ سے توثیق کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے۔
گزشتہ سال بل پلٹے نے، جسے فوجداری ریفرل کہا جاتا ہے، محکمہ انصاف سے مطالبہ کیا تھا کہ لیزا کوک اور دیگر افراد کے خلاف مبینہ رہائشی قرض فراڈ کے الزامات پر مجرمانہ تحقیقات شروع کی جائیں۔ تاہم اب تک اس بات کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ ایسی کوئی تحقیقات عملی طور پر آگے بڑھی ہوں۔
ادھر، جب بل پلٹے مسلسل لیزا کوک پر الزامات عائد کر رہے تھے، تو رائٹرز کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ خود ان کے والد اور سوتیلی والدہ نے بھی دو مختلف ریاستوں میں واقع اپنے گھروں کے لیے وہی رہائشی حیثیت ظاہر کر رکھی تھی، جس کی بنیاد پر وہ لیزا کوک پر تنقید کر رہے تھے۔
یہ ہوم اسٹیڈ استثنا دراصل ایسے گھر مالکان کو پراپرٹی ٹیکس میں رعایت دینے کے لیے ہوتا ہے جو متعلقہ مکان کو اپنی مستقل رہائش گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
مشی گن کے شہر این آربر کے پراپرٹی ٹیکس حکام نے بھی رائٹرز کو بتایا کہ بل پلٹے کے الزامات کے برعکس، لیزا کوک نے اپنے گھر پر ٹیکس میں رعایت حاصل کرنے کے حوالے سے کسی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی۔






















Comments