سندھ : او جی ڈی سی ایل نے تیل کے نئے دریافت شدہ کنویں سے پیداوار شروع کر دی
- بوبی ڈیپ ون سے اس وقت روزانہ 2 ہزار بیرل تیل پیدا ہو رہا ہے
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (اوجی ڈی سی ایل) نے ضلع سانگھڑ سندھ میں واقع بوبی اور دھمرکی مائننگ لیز میں اپنے دریافت شدہ کنویں بوبی ڈیپ 1 سے پیداوار کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا ہے۔
اس پیش رفت سے متعلق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ایک نوٹس کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔نوٹس کے مطابق بوبی ڈیپ ون سے اس وقت روزانہ 2,000 بیرل تیل پیدا ہو رہا ہے۔اسٹاک ایکسچینج کو مطلع کرتے ہوئے لسٹڈ کمپنی نے بتایا کہ دریافتوں سے جلد از جلد مالی فائدہ اٹھانے کے لیے او جی ڈی سی ایل نے انتہائی مختصر مدت میں کنویں کی جگہ سے بوبی پلانٹ تک 4 انچ قطر کی 1.5 کلومیٹر لمبی فلو لائن بچھانے کا کام مکمل کیا، جس کی بدولت اس نئی دریافت سے جلد پیداوار ممکن ہو سکی۔
او جی ڈی سی ایل کا کہنا ہے کہ بوبی ڈیپ ون سے پیداوار کا آغاز ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور درآمدات پر انحصار کم کرے گا۔
کمپنی نے مزید کہا کہ بوبی اور دھمرکی مائننگ لیز میں 100 فیصد ورکنگ انٹرسٹ کے ساتھ بطور آپریٹر او جی ڈی سی ایل اپنی مقامی صلاحیتوں کے ذریعے ہائیڈرو کاربن وسائل سے فائدہ اٹھانے کے عمل کو مسلسل آگے بڑھا رہی ہے۔
واضح رہے کہ او جی ڈی سی ایل پاکستان کی تیل و گیس تلاش کرنے اور پیدا کرنے والی (ای اینڈ پی) سب سے بڑی کمپنی ہے۔ اس کے آپریشنز میں تلاش، ڈرلنگ سروسز، پیداوار، ریزروائر مینجمنٹ اور انجینئرنگ سپورٹ شامل ہیں۔
او جی ڈی سی ایل کے پاس پاکستان میں سب سے وسیع ایکسپلوریشن رقبہ موجود ہے، جو تیل اور گیس کے خالص ہائیڈرو کاربنز کے ساتھ ملک کے کل الاٹ شدہ رقبے کے 40 فیصد سے زیادہ حصے پر محیط ہے۔حکومتِ پاکستان او جی ڈی سی ایل میں 67 فیصد سے زائد حصص کے ساتھ اس کی سب سے بڑی شیئر ہولڈر ہے۔






















Comments