اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان امن کوششیں جاری رکھے گا، اسحاق ڈار
- نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران خطے میں حالیہ پیشرفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ابھرتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
شہزادہ فیصل نے کہا کہ وہ باہمی طور پر موزوں تاریخوں پر جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کا نائب وزیراعظم نے خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ دورہ جلد عملی شکل اختیار کرے گا۔
ٹیلیفونک گفتگو کے دوران نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود سے وزیرِاعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاکستانی عوام کی جانب سے سعودی عرب میں ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں 14 قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل نے نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کا شکریہ ادا کیا اور برادرانہ جذبے کو سراہا۔
قبل ازیں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلی نمائندہ برائے خارجہ امور و سلامتی پالیسی کایا کالاس سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، اس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق کایا کالاس نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی تکمیل میں پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کو سراہا، تاہم حالیہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقوں کے درمیان رابطے اور بات چیت کے ذرائع ہر صورت کھلے رہنے چاہئیں۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے یورپی یونین کی اعلی نمائندہ کو مشرقِ وسطی میں امن اور استحکام کے لیے ایک جامع فریم ورک کی تشکیل کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریق جنگ بندی کے معاہدے کی مکمل پاسداری کریں۔ دونوں رہنماں نے باہمی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔






















Comments