روبیو کی وارننگ: ہرمز میں رکاوٹیں دیگر آبی گزرگاہوں تک بھی وبا کی طرح پھیل سکتی ہیں
- تہران نے اعلان کیا ہے کہ وہ "ٹولز" کے بجائے سمندری خدمات کی فیسیں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کسی بھی قسم کے ٹولز عائد کیے گئے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرے گا اور اس سے ”مکمل افراتفری“ پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ عمان نے واضح کیا ہے کہ کوئی فیس عائد نہیں کی جائے گی۔
روبیو نے یہ بیان خلیج کے دورے کے دوران دیا ہے، جس سے چند گھنٹے قبل ایران نے دوبارہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کو اس کی اجازت لینا لازم ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا ”واحد مجاز راستہ“ وہی ہے جو تہران نے مقرر کیا ہے، اور اس کی اجازت کے بغیر آمدورفت ”ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک“ ہوگی۔
ادھر عمان نے خلیجی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں واضح کیا کہ آبنائے میں کوئی ٹرانزٹ فیس عائد نہیں کی جائے گی، جبکہ اس کے وزیر خارجہ نے ایران کے ساتھ ہم آہنگی جاری رکھنے پر زور دیا۔
روبیو نے بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہوتیں، اور اگر اس اصول کو تسلیم کر لیا جائے کہ سمندری راستوں کے استعمال پر فیس لی جا سکتی ہے تو یہ دنیا بھر میں ”وبا کی طرح پھیل جائے گا“۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا کوئی بھی اقدام عالمی نظام کو ”مکمل افراتفری“ میں دھکیل سکتا ہے۔





















Comments