پی ٹی اے نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک لائسنسز کے لیے بولیاں طلب کر لیں
- 15 سالہ لائسنس کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر کی پیشگی فیس مقرر
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بدھ کو باضابطہ طور پر موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹر (ایم وی این او) لائسنسز کے لیے درخواستیں طلب کر لیں اور ملک گیر لائسنس کے لیے 1 لاکھ 40 ہزار ڈالر کی پیشگی فیس مقرر کر دی۔ یہ پیش رفت وفاقی کابینہ کی جانب سے اس پالیسی فریم ورک کی منظوری کے بعد سامنے آئی ہے جس کا مقصد پاکستان کی ٹیلی کام مارکیٹ میں نئے آپریٹرز کو متعارف کرانا ہے۔
ریگولیٹر نے دلچسپی رکھنے والے اداروں کو ایم وی این او لائسنسز کے لیے درخواست دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ٹیلی کمیونیکیشن شعبے میں مسابقت، جدت اور صارفین کے لیے انتخاب کے بہتر مواقع کو فروغ دینا ہے۔
ان لائسنسز کے تحت کمپنیاں ریڈیو اسپیکٹرم حاصل کیے بغیر اور نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ قائم کیے بغیر، پہلے سے لائسنس یافتہ موبائل نیٹ ورک آپریٹرز (ایم این اوز) کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے ذریعے اپنے برانڈ نام سے موبائل خدمات فراہم کر سکیں گی۔
یہ اقدام پاکستان کی ٹیلی کام صنعت میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے، جہاں اب تک موبائل خدمات پر بنیادی ڈھانچے کے حامل محدود تعداد میں آپریٹرز کا غلبہ رہا ہے۔
پالیسی فریم ورک کے مطابق ایم وی این او لائسنس 15 برس کے لیے جاری کیے جائیں گے، تاہم ان کی تجدید اور برقرار رہنا پی ٹی اے کے قواعد و ضوابط اور لائسنس کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔ اہلیت کے معیار، لائسنس سے متعلق ذمہ داریوں اور درخواست دینے کے طریقہ کار کی تفصیلات ریگولیٹر کی جانب سے جاری کردہ ایم وی این او لائسنس ٹیمپلیٹ میں شامل کر دی گئی ہیں۔
صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ اس فریم ورک سے فِن ٹیک کمپنیوں، انٹرنیٹ سروس فراہم کنندگان، کیبل آپریٹرز، ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی اداروں کو موبائل مارکیٹ میں نسبتاً کم سرمائے کے ساتھ داخل ہونے کا موقع ملے گا، جو روایتی ٹیلی کام آپریٹرز کے مقابلے میں ایک بڑی سہولت ہے۔
پالیسی فریم ورک کے تحت ایم وی این اوز کو اپنے برانڈ نام سے خدمات کی تشہیر، صارفین کی ضروریات کے مطابق پیکجز متعارف کرانے، آزادانہ بلنگ سسٹم چلانے اور کسٹمر کیئر کے انتظام کی اجازت ہوگی۔
تاہم، انہیں لائسنس یافتہ سیلولر موبائل آپریٹرز سے نیٹ ورک کی گنجائش کرائے پر حاصل کرنا ہوگی کیونکہ انہیں ریڈیو اسپیکٹرم مختص نہیں کیا جائے گا۔
فریم ورک کے مطابق ایک ایم وی این او ایک یا ایک سے زیادہ ایم این اوز کے ساتھ معاہدے کر سکے گا، جبکہ میزبان سیلولر آپریٹرز بھی اپنے نیٹ ورکس پر متعدد ایم وی این اوز کو خدمات فراہم کر سکیں گے۔
ابتدائی لائسنس فیس کے علاوہ ایم وی این اوز کو سالانہ لائسنس فیس بھی ادا کرنا ہوگی اور قابلِ اطلاق ریونیو شیئرنگ نظام کے تحت یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (آر اینڈ ڈی) فنڈ میں لازمی شراکت بھی کرنا ہوگی۔
پی ٹی اے نے صارفین کے تحفظ کے لیے ایک جامع نظام بھی متعارف کرایا ہے۔ ایم وی این اوز کے لیے لازم ہوگا کہ وہ علیحدہ کسٹمر سپورٹ سسٹم برقرار رکھیں، صارفین کے ڈیٹا کی رازداری یقینی بنائیں، خدمات کے معیار کے تقاضے پورے کریں اور قومی سلامتی اور قانونی نگرانی سے متعلق ضوابط کی پابندی کریں۔
صارفین کے مفادات کے تحفظ اور خدمات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے میزبان نیٹ ورک آپریٹرز پی ٹی اے کی پیشگی منظوری کے بغیر ایم وی این اوز کو فراہم کی جانے والی خدمات معطل یا ان کے معیار میں کمی نہیں کر سکیں گے۔ اسی طرح ایم وی این اوز بھی ریگولیٹر کی اجازت اور پیشگی اطلاع کے بغیر اپنی خدمات بند نہیں کر سکیں گے۔
فریم ورک میں موبائل نمبر پورٹیبلٹی کی شق بھی شامل کی گئی ہے، جس کے تحت صارفین سروس فراہم کنندہ تبدیل کرتے وقت اپنا موجودہ موبائل نمبر برقرار رکھ سکیں گے۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو بہتر انتخاب کے مواقع میسر آئیں گے۔
ٹیلی کام ماہرین کے مطابق ایم وی این اوز کی آمد نوجوانوں، کاروباری اداروں، بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، ڈیجیٹل مواد استعمال کرنے والوں اور دیگر مخصوص صارفین کے لیے خصوصی نوعیت کی خدمات متعارف کرا کے ان مارکیٹ حصوں کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتی ہے جنہیں اب تک مناسب توجہ نہیں مل سکی۔
عالمی سطح پر ایم وی این اوز نے مسابقت بڑھانے اور خدمات کی لاگت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ اس ماڈل کے تحت کمپنیاں نیٹ ورک کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے بجائے قائم شدہ آپریٹرز سے نیٹ ورک کرائے پر لے کر برانڈنگ، صارفین کے تجربے اور ویلیو ایڈڈ خدمات پر توجہ مرکوز کر سکتی ہیں۔



















Comments