BR100 Increased By (0.21%)
BR30 Increased By (0%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 57.09 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.42 Increased By ▲ 0.07 (0.23%)
CNERGY 13.15 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 193.38 Increased By ▲ 0.93 (0.48%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.90 Increased By ▲ 0.11 (0.21%)
FFL 14.82 Increased By ▲ 0.10 (0.68%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.29 Increased By ▲ 1.19 (0.39%)
HUBC 201.99 Increased By ▲ 0.57 (0.28%)
HUMNL 10.17 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.70 Increased By ▲ 0.54 (0.58%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.65 Increased By ▲ 0.02 (0.06%)
PIBTL 14.99 Increased By ▲ 0.31 (2.11%)
PIOC 243.70 Increased By ▲ 0.49 (0.2%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.70 Increased By ▲ 0.68 (0.73%)
SNGP 91.95 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.74 Decreased By ▼ -0.07 (-0.29%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.87 Increased By ▲ 0.31 (0.55%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پی آئی اے کی حکومت سے نجی مالکان کو منتقلی رواں ماہ کے آخر تک متوقع

  • پی آئی اے کی نجکاری دسمبر 2025 میں کراچی کی عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کو کی گئی تھی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو رواں ماہ کے آخر تک نئے مالکان کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ نجکاری سے متعلق تمام بقیہ قانونی اور دستاویزی تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے بزنس ریکارڈر کو انٹرویو میں بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری دسمبر 2025 میں کراچی کی عارف حبیب کارپوریشن کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کو کی گئی تھی، جس نے 75 فیصد اکثریتی حصص 135 ارب روپے (تقریباً 48 کروڑ 20 لاکھ ڈالر) میں نیلامی کے ذریعے حاصل کیے تھے۔ بعد ازاں فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی اس سرمایہ کار گروپ میں شامل ہو گئی۔

معاہدے میں 10 ارب روپے حکومت کے ایکویٹی حصے کے لیے اور 125 ارب روپے قرضوں میں کمی اور بیڑے کی جدید کاری کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

محمد علی کے مطابق منتقلی کے عمل میں اب کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی، تاہم کچھ انتظامی اور مالی معاملات کو بیچ کے مرحلے اور حتمی منتقلی کے درمیان حل کرنا ضروری تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے عالمی معاہدوں، طیاروں پر حاصل قرضوں اور لیز معاہدوں کی منتقلی کے لیے متعلقہ اداروں سے این او سیز درکار تھے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد واجبات پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کرنے پر اتفاق ہوا، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے متعلق مسائل بھی حل کیے گئے۔ پی آئی اے ایکٹ 1956 کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، تاہم ادارے کے نام کو برقرار رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عبوری دور میں انتظامی فیصلے پی آئی اے اور خریداروں کی مشاورت سے کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایئرکرافٹ اور اس کے اسپیئر پارٹس پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، تاکہ ادارے کی مسابقتی صلاحیت برقرار رہے۔ اس فیصلے کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری بھی حاصل کر لی گئی ہے۔

محمد علی نے کہا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے ساتھ معاہدے پر بھی پیش رفت جاری ہے، جبکہ کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کے لیے بھی بڑے سرمایہ کاری منصوبے زیر غور ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ او جی ڈی سی ایل، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی سمیت پٹرولیم شعبے کے اداروں کی نجکاری پر بھی غور جاری ہے، جبکہ آئندہ مالی سال میں متعدد ڈسکوز اور دیگر اداروں کی نجکاری مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

مشیر نجکاری کے مطابق حکومت کا مقصد نجی شعبے کی شمولیت سے توانائی اور ہوابازی کے شعبوں میں کارکردگی بہتر بنانا اور عالمی معیار کے مطابق خدمات فراہم کرنا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف