بنگلہ دیشی وزیراعظم کا پہلا غیر ملکی دورہ، چین اور ملائیشیا سے سرمایہ کاری لانے پر توجہ
- بنگلہ دیشی وزیراعظم اتوار کی دوپہر کو کوالالمپور کے لیے روانہ ہوں گے
بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان اتوار کے روز اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے بیرونی سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جس کے تحت وہ ملائیشیا اور چین کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانا اور نئی خارجہ پالیسی ترجیحات کو واضح کرنا ہے۔
چھ روزہ اس دورے کے دوران طارق رحمان کی حکومت ایک پرجوش اقتصادی ایجنڈے کی حمایت کے لیے غیر ملکی سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گی جبکہ ایشیا کے اہم شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔
بنگلہ دیشی وزیراعظم اتوار کی دوپہر کو کوالالمپور کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وہ پیر کے روز چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی وزیراعظم لی چیانگ کی دعوت پر تین روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔
چینی دورے کے دوران 15 سے 17 دوطرفہ معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ بنگلہ دیشی وزارت خارجہ کے مطابق تاخیر کا شکار تیسٹا دریا منصوبہ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہوگا۔
طارق رحمان 25 جون کو چینی وزیراعظم اور 26 جون کو صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ وہ چین کے شہر دالیان میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس سمر ڈیووس فورم میں بھی شرکت کریں گے، جہاں عالمی رہنما اقتصادی ترقی، جدت اور نئی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کریں گے۔
چین کے ساتھ یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب ڈھاکہ اپنے بڑے تجارتی اور ترقیاتی شراکت دار کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں چینی اکنامک اینڈ انڈسٹریل زون کے لیے 41.89 ارب ٹکہ کے انفراسٹرکچر منصوبے کی منظوری دی ہے، جس میں چین کی جانب سے نرم قرضے بھی شامل ہیں۔
یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ایک لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے اور 500 ملین ڈالر سے زائد غیر ملکی سرمایہ کاری جذب کرنے کی توقع رکھتا ہے۔
ملائیشیا میں بات چیت کا محور محنت کشوں کی ہجرت، روزگار کے مواقع اور اقتصادی تعاون ہوگا، کیونکہ ملائیشیا بنگلہ دیشی تارکینِ وطن کے لیے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے اور ترسیلات زر کا اہم ذریعہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ سفارتی اہمیت بھی رکھتا ہے، کیونکہ بنگلہ دیش چین اور ملائیشیا جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر کے اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔


























Comments