BR100 Decreased By (-0.84%)
BR30 Decreased By (-1.26%)
KSE100 Decreased By (-0.75%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 59.94 Increased By ▲ 0.10 (0.17%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 34.12 Decreased By ▼ -1.16 (-3.29%)
CNERGY 12.79 Decreased By ▼ -0.34 (-2.59%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.12 (0.66%)
DGKC 212.80 Decreased By ▼ -4.21 (-1.94%)
FABL 99.10 Decreased By ▼ -0.85 (-0.85%)
FCCL 57.69 Decreased By ▼ -0.28 (-0.48%)
FFL 16.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.16%)
GGL 24.17 Decreased By ▼ -0.19 (-0.78%)
HBL 333.51 Increased By ▲ 7.30 (2.24%)
HUBC 211.58 Decreased By ▼ -1.84 (-0.86%)
HUMNL 10.69 Decreased By ▼ -0.12 (-1.11%)
KEL 7.49 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
LOTCHEM 28.00 Increased By ▲ 0.25 (0.9%)
MLCF 100.65 Decreased By ▼ -2.33 (-2.26%)
OGDC 320.00 Decreased By ▼ -3.78 (-1.17%)
PAEL 43.12 Decreased By ▼ -0.78 (-1.78%)
PIBTL 16.55 Decreased By ▼ -0.13 (-0.78%)
PIOC 271.53 Decreased By ▼ -4.66 (-1.69%)
PPL 227.76 Decreased By ▼ -1.71 (-0.75%)
PRL 70.06 Decreased By ▼ -0.05 (-0.07%)
SNGP 102.32 Decreased By ▼ -1.34 (-1.29%)
SSGC 26.78 Decreased By ▼ -0.33 (-1.22%)
TELE 8.60 Decreased By ▼ -0.12 (-1.38%)
TPLP 15.05 Decreased By ▼ -0.63 (-4.02%)
TRG 59.50 Decreased By ▼ -1.63 (-2.67%)
UNITY 12.04 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ٹرمپ کا ایران معاہدے کا دفاع، معاشی تباہی سے بچنے پر زور

  • جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ، مہنگائی میں اضافہ اور خوراک کے عالمی بحران کے خدشات بڑھ گئے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز فرانس میں ہونے والے جی سیون اجلاس کے اختتام پر ایران کے ساتھ امریکی معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی ایسی معاشی تباہی کو نہیں دیکھنا چاہتے تھے جو مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے تسلسل سے جنم لے سکتی تھی۔

انہوں نے جھیل کے کنارے واقع ریزورٹ ایویاں-لے-بان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”میں نے جس چیز کو دیکھنا نہیں چاہا وہ معاشی تباہی تھی۔ اگر یہ صورتحال جاری رہتی تو ایسا ہو سکتا تھا۔“

ٹرمپ نے کہا کہ وہ سابق امریکی صدر ہربرٹ ہوور جیسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں، جو اکتوبر 1929 میں اس وقت صدر تھے جب امریکی اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا اور بعد ازاں گریٹ ڈپریشن کا آغاز ہوا۔

یہ جنگ، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی اور بعد ازاں خطے میں وسیع تنازع میں تبدیل ہو گئی، نے توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کیا، مہنگائی کے دباؤ کو بڑھایا اور ترقی پذیر ممالک میں خوراک کے ممکنہ بڑے بحران کے خدشات کو جنم دیا۔

ماہرینِ معیشت کے مطابق امن معاہدہ عالمی معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے، تاہم اگر یہ ناکام ہوا اور تنازع مزید شدت اختیار کر گیا تو بڑے خطرات موجود ہیں۔ ان کے مطابق تجارتی سرگرمیوں کو معمول پر آنے میں کئی ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ ایندھن کے شعبے کے ماہرین اور بحری امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحری ایندھن (بَنکر فیول) کی سپلائی کو معمول پر آنے میں ایک سال تک لگ سکتا ہے۔

Comments

200 حروف