پیچیدہ فنانس بل 2026 کی وضاحت، اہم نکات سامنے آ گئے
- انکم ٹیکس میں تنخواہ سلیب کی ازسرنو ترتیب کے تحت 35 فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح کے لیے آمدن کی حد 4.1 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے کر دی گئی ہے
کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پوسٹ بجٹ سیمینار میں ٹیکس ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فنانس بل 2026 تنخواہ دار طبقے اور پراپرٹی سیکٹر کو کچھ ریلیف فراہم کرتا ہے، تاہم اس کا اصل اور دور رس اثر ایک ایسے انفورسمنٹ ڈھانچے کی صورت میں سامنے آئے گا جو ڈیٹا نگرانی، الگورتھم پر مبنی تنازعات کے حل اور ڈیجیٹل کمپلائنس پر مبنی جرمانوں پر انحصار کرے گا۔
کے پی ایم جی تاثیر ہادی اینڈ کمپنی کے پارٹنر خالد محمود نے شرکاء کو بتایا کہ سیکشن 7E کا خاتمہ نئے قائم ہونے والے فیڈرل آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا ہے جس نے اس شق کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اسی کے ساتھ پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس 4.5 سے 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد فلیٹ اور خریداری پر 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے جائیداد کی مارکیٹ کو جزوی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
انکم ٹیکس میں تنخواہ سلیب کی ازسرنو ترتیب کے تحت 35 فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح کے لیے آمدن کی حد 4.1 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے کر دی گئی ہے، جس سے 5.6 ملین روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کو 14.46 فیصد تک ٹیکس بچت ہو سکتی ہے۔ تنخواہ دار افراد پر 10 فیصد سپرٹیکس کے خاتمے کی بھی تجویز ہے، تاہم دیگر شعبوں پر یہ برقرار رہے گا۔
ماہرین کے مطابق بالواسطہ ٹیکس نظام میں بڑی ساختی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ کمپنیوں کو ٹیکس سال 2026 سے مالی گوشوارے صرف مشین ریڈایبل فارمیٹس (ایکس ایم ایل، ایکس بی آر ایل،سی ایس وی، جے ایس او این) میں جمع کرانا ہوں گے، جبکہ نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے آڈٹ اور اپیلیں ڈیجیٹل طور پر ہوں گی۔
ایک الگورتھمک سیٹلمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت تنازعات کو ڈیجیٹل آفر کے ذریعے قبل از ٹیکس اسسمنٹ حل کیا جا سکے گا۔ اسی طرح بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے 100 ملین روپے سے زائد ٹرانزیکشنز کی خودکار رپورٹنگ لازمی ہوگی۔
جرمانوں کے نظام میں بھی سختی کی گئی ہے۔ دیر سے ریٹرن فائل کرنے پر جرمانہ 25 ہزار روپے، سیلز ٹیکس ریٹرن میں کوتاہی پر 50 ہزار روپے اور الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم نہ لگانے پر 10 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ فرضی انوائسز پر مکمل ویلیو کے برابر جرمانہ اور اضافی 20 فیصد پنالٹی بھی شامل ہے۔
نئے ٹیکس اقدامات میں 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر بھی تجویز کیا گیا ہے، جبکہ پریمیم ایئر ٹکٹس، گاڑیوں، انشورنس ادائیگیوں اور فارما ڈسٹری بیوٹرز پر بھی نئے ٹیکس اقدامات شامل ہیں۔ ماہرین نے فیس لیس نظام، جرمانوں کی شدت اور ایف بی آر نوٹیفکیشنز پر انحصار کو اہم خدشات قرار دیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026




















Comments