BR100 Increased By (1.73%)
BR30 Increased By (1.95%)
KSE100 Increased By (1.89%)
KSE30 Increased By (1.95%)
BAFL 60.99 Increased By ▲ 0.85 (1.41%)
BIPL 27.62 Increased By ▲ 0.94 (3.52%)
BOP 36.41 Increased By ▲ 0.68 (1.9%)
CNERGY 8.35 Increased By ▲ 0.07 (0.85%)
DFML 19.69 Increased By ▲ 0.16 (0.82%)
DGKC 217.31 Decreased By ▼ -3.74 (-1.69%)
FABL 97.78 Increased By ▲ 3.19 (3.37%)
FCCL 57.40 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
FFL 18.07 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
GGL 23.13 Increased By ▲ 2.10 (9.99%)
HBL 302.81 Increased By ▲ 6.83 (2.31%)
HUBC 230.75 Increased By ▲ 1.99 (0.87%)
HUMNL 11.69 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
KEL 8.14 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 28.50 Decreased By ▼ -0.19 (-0.66%)
MLCF 97.56 Decreased By ▼ -0.57 (-0.58%)
OGDC 328.00 Increased By ▲ 3.37 (1.04%)
PAEL 43.49 Increased By ▲ 0.40 (0.93%)
PIBTL 18.30 Increased By ▲ 0.34 (1.89%)
PIOC 286.50 Decreased By ▼ -5.80 (-1.98%)
PPL 239.12 Increased By ▲ 6.34 (2.72%)
PRL 36.31 Increased By ▲ 0.62 (1.74%)
SNGP 112.94 Increased By ▲ 10.27 (10%)
SSGC 30.43 Increased By ▲ 2.77 (10.01%)
TELE 9.65 Increased By ▲ 0.46 (5.01%)
TPLP 11.24 Decreased By ▼ -0.13 (-1.14%)
TRG 70.30 Increased By ▲ 1.45 (2.11%)
UNITY 11.61 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

پیچیدہ فنانس بل 2026 کی وضاحت، اہم نکات سامنے آ گئے

  • انکم ٹیکس میں تنخواہ سلیب کی ازسرنو ترتیب کے تحت 35 فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح کے لیے آمدن کی حد 4.1 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے کر دی گئی ہے
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 11:31am

کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام پوسٹ بجٹ سیمینار میں ٹیکس ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فنانس بل 2026 تنخواہ دار طبقے اور پراپرٹی سیکٹر کو کچھ ریلیف فراہم کرتا ہے، تاہم اس کا اصل اور دور رس اثر ایک ایسے انفورسمنٹ ڈھانچے کی صورت میں سامنے آئے گا جو ڈیٹا نگرانی، الگورتھم پر مبنی تنازعات کے حل اور ڈیجیٹل کمپلائنس پر مبنی جرمانوں پر انحصار کرے گا۔

کے پی ایم جی تاثیر ہادی اینڈ کمپنی کے پارٹنر خالد محمود نے شرکاء کو بتایا کہ سیکشن 7E کا خاتمہ نئے قائم ہونے والے فیڈرل آئینی عدالت کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا ہے جس نے اس شق کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اسی کے ساتھ پراپرٹی کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس 4.5 سے 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد فلیٹ اور خریداری پر 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے جائیداد کی مارکیٹ کو جزوی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

انکم ٹیکس میں تنخواہ سلیب کی ازسرنو ترتیب کے تحت 35 فیصد کی زیادہ سے زیادہ شرح کے لیے آمدن کی حد 4.1 ملین روپے سے بڑھا کر 7 ملین روپے کر دی گئی ہے، جس سے 5.6 ملین روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کو 14.46 فیصد تک ٹیکس بچت ہو سکتی ہے۔ تنخواہ دار افراد پر 10 فیصد سپرٹیکس کے خاتمے کی بھی تجویز ہے، تاہم دیگر شعبوں پر یہ برقرار رہے گا۔

ماہرین کے مطابق بالواسطہ ٹیکس نظام میں بڑی ساختی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ کمپنیوں کو ٹیکس سال 2026 سے مالی گوشوارے صرف مشین ریڈایبل فارمیٹس (ایکس ایم ایل، ایکس بی آر ایل،سی ایس وی، جے ایس او این) میں جمع کرانا ہوں گے، جبکہ نیشنل فیس لیس سینٹر کے ذریعے آڈٹ اور اپیلیں ڈیجیٹل طور پر ہوں گی۔

ایک الگورتھمک سیٹلمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت تنازعات کو ڈیجیٹل آفر کے ذریعے قبل از ٹیکس اسسمنٹ حل کیا جا سکے گا۔ اسی طرح بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لیے 100 ملین روپے سے زائد ٹرانزیکشنز کی خودکار رپورٹنگ لازمی ہوگی۔

جرمانوں کے نظام میں بھی سختی کی گئی ہے۔ دیر سے ریٹرن فائل کرنے پر جرمانہ 25 ہزار روپے، سیلز ٹیکس ریٹرن میں کوتاہی پر 50 ہزار روپے اور الیکٹرانک مانیٹرنگ سسٹم نہ لگانے پر 10 لاکھ سے 20 لاکھ روپے تک جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔ فرضی انوائسز پر مکمل ویلیو کے برابر جرمانہ اور اضافی 20 فیصد پنالٹی بھی شامل ہے۔

نئے ٹیکس اقدامات میں 5 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر بھی تجویز کیا گیا ہے، جبکہ پریمیم ایئر ٹکٹس، گاڑیوں، انشورنس ادائیگیوں اور فارما ڈسٹری بیوٹرز پر بھی نئے ٹیکس اقدامات شامل ہیں۔ ماہرین نے فیس لیس نظام، جرمانوں کی شدت اور ایف بی آر نوٹیفکیشنز پر انحصار کو اہم خدشات قرار دیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف