BR100 Decreased By (-0.72%)
BR30 Decreased By (-1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.65%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 56.59 Decreased By ▼ -0.28 (-0.49%)
BIPL 24.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.64%)
BOP 30.14 Decreased By ▼ -0.21 (-0.69%)
CNERGY 13.02 Decreased By ▼ -0.10 (-0.76%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.96 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
FCCL 52.45 Decreased By ▼ -0.34 (-0.64%)
FFL 14.50 Decreased By ▼ -0.22 (-1.49%)
GGL 19.06 Decreased By ▼ -0.50 (-2.56%)
HBL 304.89 Decreased By ▼ -1.21 (-0.4%)
HUBC 199.50 Decreased By ▼ -1.92 (-0.95%)
HUMNL 9.94 Decreased By ▼ -0.22 (-2.17%)
KEL 6.08 Decreased By ▼ -0.01 (-0.16%)
LOTCHEM 26.33 Decreased By ▼ -0.13 (-0.49%)
MLCF 91.40 Decreased By ▼ -1.76 (-1.89%)
OGDC 313.77 Decreased By ▼ -2.96 (-0.93%)
PAEL 35.20 Decreased By ▼ -0.43 (-1.21%)
PIBTL 14.75 Increased By ▲ 0.07 (0.48%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 222.00 Decreased By ▼ -4.91 (-2.16%)
PRL 91.61 Decreased By ▼ -1.41 (-1.52%)
SNGP 90.81 Decreased By ▼ -1.03 (-1.12%)
SSGC 23.33 Decreased By ▼ -0.48 (-2.02%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.67 Decreased By ▼ -0.30 (-2.31%)
TRG 56.00 Decreased By ▼ -0.56 (-0.99%)
UNITY 8.03 Decreased By ▼ -0.04 (-0.5%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پیٹرولیم ڈویژن اور آئی ایم ایف میں گیس سیکٹر سرکلر ڈیٹ پر مذاکرات

  • پیٹرولیم ڈویژن گیس سیکٹر کے قرضے کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے
شائع اپ ڈیٹ

پیٹرولیم ڈویژن ملک کے بڑھتے ہوئے گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے حل کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک جامع منصوبے پر بات چیت کر رہا ہے، جس کا حجم تقریباً 3.4 کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے بعد پریس کانفرنس کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور اس نے گیس سیکٹر کی مجوزہ ریگولرائزیشن فریم ورک کو مسترد نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم ڈویژن گیس سیکٹر کے قرضے کے معاملے پر آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق مجوزہ منصوبے کا مقصد توانائی کے شعبے میں مسلسل بڑھتے ہوئے سرکلر ڈیٹ کے مسئلے کو روکنا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گیس سیکٹر میں یہ قرضہ کئی وجوہات کے باعث بڑھا ہے جن میں کم لاگت گیس ٹیرف، ان اکاؤنٹڈ فار گیس (یو ایف جی) نقصانات، سبسڈی کی تاخیر سے ادائیگیاں، آر ایل این جی ٹیرف کا فرق اور سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کی کارکردگی سے متعلق مسائل شامل ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے یو ایف جی نقصانات میں کمی، بلنگ اور ریکوری کے نظام میں بہتری اور گیس یوٹیلیٹیز کی گورننس بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر واجبات کی تنظیمِ نو پر بھی غور جاری ہے۔

مہنگی درآمدی ایل این جی بھی سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی بڑی وجہ ہے، کیونکہ عالمی قیمتوں اور مقامی ریگولیٹڈ ٹیرف کے درمیان فرق مسلسل بڑھ رہا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے حل کا منصوبہ، جو اپ اسٹریم ایکسپلوریشن اور پیداوار کو فروغ دینے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے۔

مجوزہ طریقہ کار کے تحت آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن اس منصوبے کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گا، جہاں سے منظوری کے بعد اسے مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ بات چیت توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے، جس کا مقصد ان خرابیوں کو دور کرنا ہے جو ماضی میں سرکلر ڈیٹ میں اضافے کا سبب بنتی رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک قابلِ اعتماد اور آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ منصوبہ توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مؤثر عملدرآمد اور سیاسی عزم پر ہوگا۔

گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیٹ پالیسی سازوں کے لیے بدستور ایک بڑا چیلنج ہے، جس کے حل کو ملک کے مجموعی معاشی استحکام اور توانائی اصلاحات کے لیے ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف