او آئی سی سی آئی کا مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر شدید تحفظات کا اظہار
- آئل ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے سیلز ٹیکس اسٹیٹس کی بحالی یا زیرو ریٹنگ کے نفاذ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا
اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک ایسا بجٹ قرار دیا ہے جو ’’اعتدال، ساختی اصلاحات کے عزم اور بعض شعبوں میں بامعنی پیش رفت‘‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
تاہم چیمبر نے سیلز ٹیکس اسٹیٹس کی بحالی یا زیرو ریٹنگ کے نفاذ سے متعلق معاملات پر شدید تحفظات کا بھی اظہار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے 13 کھرب روپے کی وصولی جس کا ذکر وزیرِ خزانہ نے بھی کیا ایک قابلِ ذکر سنگ میل ہے۔ او آئی سی سی آئی اسے تسلیم کرتا ہے۔ تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ اس کا بڑا حصہ اُنہی افراد اور اداروں سے وصول کیا گیا جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں شامل تھے۔
چیمبر کے مطابق غیر رسمی معیشت بدستور غیر منظم انداز میں پھیل رہی ہے، اور کیش اکانومی گزشتہ سال کے 9 کھرب روپے سے بڑھ کر اس سال 12 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ایک سال میں 33 فیصد کا اضافہ ہے۔
’’یہ معمولی حسابی غلطی نہیں بلکہ پالیسی ناکامی ہے۔ معیشت کو رسمی (فارملائز) نہ کرنے کی قیمت واضح اور قابلِ پیمائش ہے، اور یہ اعداد و شمار اسے ناقابلِ تردید بناتے ہیں۔‘‘
او آئی سی سی آئی نے سپر ٹیکس میں جزوی نرمی، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدن کے سلیبز کے خاتمے اور 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔
چیمبر نے کہا کہ ’’یہ اقدام درمیانے درجے کے رسمی کاروباری اداروں پر دباؤ کم کرے گا اور ہماری دیرینہ وکالت کے مطابق ہے، تاہم کارپوریٹ انکم ٹیکس کی بنیادی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔‘‘
چیمبر نے برآمدی آمدن پر ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس میں کمی کو (2 فیصد سے 1.25 فیصد) ایک دانشمندانہ قدم قرار دیا۔ اسی طرح رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں کی تنظیم نو، جس کے تحت سیکشن 236سی اور 236کے کو بالترتیب 2.75 فیصد اور 1.5 فیصد فلیٹ ریٹس پر لایا گیا، کو معاشی سرگرمی بحال کرنے کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔
مزید برآں آئی ٹی سیکٹر اور منتخب ان پٹ کیٹیگریز کو بھی ہدفی ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جسے او آئی سی سی آئی نے خوش آئند قرار دیا۔
چیمبر نے مجوزہ نیشنل فیس لیس اسیسمنٹ سینٹر اور سسٹم بیسڈ اسیسمنٹ نظام کو بجٹ کی سب سے اہم ساختی اصلاح قرار دیا۔
بیان کے مطابق یہ نظام ٹیکس دہندگان اور افسران کے براہِ راست رابطے کو کم کرے گا، فیلڈ ڈسکریشن محدود کرے گا اور تعمیل کرنے والے اداروں کے لیے ہراسانی کے خطرات میں کمی لائے گا—یہ وہ مسائل ہیں جن پر چیمبر کے اراکین برسوں سے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں۔ تاہم او آئی سی سی آئی نے واضح کیا کہ ’’اصل امتحان اس نظام کے نفاذ کا ہوگا۔‘‘
او آئی سی سی آئی نے دو امور پر ’’سنگین تشویش‘‘ کا اظہار بھی کیا۔
’’اول، آئل ریفائنریز اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے سیلز ٹیکس اسٹیٹس کی بحالی یا زیرو ریٹنگ کے نفاذ کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) پر بڑا مالی بوجھ ہے، جو ریفائنری سیکٹر میں 6 سے 10 ارب ڈالر کی توسیعی سرمایہ کاری کو بھی روک رہا ہے۔‘‘
’’دوم، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 113 کے تحت کم از کم ٹیکس برائے ٹرن اوور یا سیکشن 153 کے تحت آلٹرنیٹ کم ازکم ٹیکس پر نظرثانی کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ یہ شقیں طویل عرصے سے ٹرن اوور پر ٹیکس عائد کر کے منافع کے بجائے کاروباری حجم کو بنیاد بناتی رہی ہیں، جس سے کم مارجن والے شعبے شدید متاثر ہوتے ہیں۔‘‘
چیمبر نے یہ بھی نشاندہی کی کہ کارپوریٹ انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی میں تیزی لانے کے لیے کوئی مخصوص اقدامات شامل نہیں کیے گئے۔
’’زیر التوا ریفنڈز رسمی کاروباری اداروں کے لیے لیکویڈیٹی کا بڑا مسئلہ ہیں۔ فنانس بل کے ذریعے ایک واضح اور وقت کی پابند ریفنڈ میکانزم سرمایہ کار برادری کے لیے اعتماد کا مضبوط پیغام ہوگا، اور چیمبر حکومت سے اس پر فوری پیش رفت کا مطالبہ کرتا ہے۔‘‘

























Comments