BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (1.17%)
KSE100 Increased By (0.81%)
KSE30 Increased By (0.77%)
BAFL 58.23 Increased By ▲ 0.52 (0.9%)
BIPL 25.56 Increased By ▲ 0.20 (0.79%)
BOP 33.60 Increased By ▲ 0.35 (1.05%)
CNERGY 8.24 Increased By ▲ 0.19 (2.36%)
DFML 19.54 Increased By ▲ 0.35 (1.82%)
DGKC 195.91 Increased By ▲ 2.26 (1.17%)
FABL 88.81 Increased By ▲ 0.58 (0.66%)
FCCL 52.91 Decreased By ▼ -0.02 (-0.04%)
FFL 17.80 Increased By ▲ 0.19 (1.08%)
GGL 20.70 Increased By ▲ 0.47 (2.32%)
HBL 284.81 Increased By ▲ 4.34 (1.55%)
HUBC 214.95 Increased By ▲ 3.10 (1.46%)
HUMNL 11.24 Increased By ▲ 0.12 (1.08%)
KEL 7.97 Increased By ▲ 0.08 (1.01%)
LOTCHEM 29.19 Increased By ▲ 0.33 (1.14%)
MLCF 86.01 Increased By ▲ 0.66 (0.77%)
OGDC 319.63 Increased By ▲ 1.56 (0.49%)
PAEL 40.21 Increased By ▲ 0.80 (2.03%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.17 (0.99%)
PIOC 268.71 Increased By ▲ 1.24 (0.46%)
PPL 225.30 Increased By ▲ 0.48 (0.21%)
PRL 34.38 Increased By ▲ 0.20 (0.59%)
SNGP 100.96 Increased By ▲ 3.41 (3.5%)
SSGC 26.76 Increased By ▲ 0.45 (1.71%)
TELE 8.96 Increased By ▲ 0.58 (6.92%)
TPLP 11.31 Increased By ▲ 1.03 (10.02%)
TRG 71.67 Increased By ▲ 2.13 (3.06%)
UNITY 11.61 Increased By ▲ 0.30 (2.65%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
کھیل

آئی سی سی نے قذافی اسٹیڈیم اور لارڈز کی پچز کو "غیر تسلی بخش" قرار دے دیا

  • دونوں اسٹیڈیمز پر ڈی میرٹ پوائنٹس عائد کر دیے گئے
شائع June 9, 2026 اپ ڈیٹ June 9, 2026 09:35pm

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل اور انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان لارڈز میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی پچز کو ”غیر تسلی بخش“ قرار دیتے ہوئے، اپنے پچ اینڈ آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ نظام کے تحت دونوں وینیوز کو ایک ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دے دیا ہے۔

جاری کردہ ایک میڈیا ریلیز میں منگل کے روز انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بتایا کہ میچ ریفریز گریم لا بروئے اور اینڈی پائکرافٹ نے اپنی رپورٹس میں ان خدشات کی نشاندہی کی ہے جو میچ آفیشلز اور ٹیم کپتانوں کی جانب سے کھیل کی سطح (پچ) کے بارے میں اٹھائے گئے تھے۔

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کی پچ پر تبصرہ کرتے ہوئے گریم لا بروئے نے کہا کہ پورے میچ کے دوران وکٹ “سلو اور لو” رہی، جس کے باعث رنز بنانا مشکل ہو گیا اور یہ ون ڈے انٹرنیشنل کے معیار کے مطابق نہیں تھی۔

انہوں نے کہا:
“پچ سست اور نیچی تھی جس نے رنز بنانا انتہائی مشکل بنا دیا۔ یہ ون ڈے میچ کے لیے موزوں نہیں تھی کیونکہ بیٹرز کو سیٹ ہونے میں زیادہ وقت لگا۔ اس نے ابتدا ہی سے اسپنرز کو مدد دی اور پورے میچ میں یہی صورتحال رہی۔”

دوسری جانب لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کی پچ پر تبصرہ کرتے ہوئے اینڈی پائکرافٹ نے کہا کہ یہ سطح بولرز کو ضرورت سے زیادہ مدد فراہم کر رہی تھی، جس سے بیٹ اور بال کے درمیان عدم توازن پیدا ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ”پورے ٹیسٹ میں سیون موومنٹ حد سے زیادہ رہی اور کئی مواقع پر گیند بہت نیچی رہی۔ باؤنس غیر مستقل تھا، پہلے دن 16 وکٹیں گریں اور دوسرے دن 17۔ مجموعی طور پر یہ پچ بیٹنگ کے مقابلے میں بولنگ کے حق میں حد سے زیادہ جھکی ہوئی تھی۔“

آئی سی سی نے یہ رپورٹس بالترتیب پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کو ارسال کر دی ہیں، اور دونوں بورڈز کو 14 روز کے اندر اپیل کا حق دیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق دونوں وینیوز کے خلاف اس سے قبل کوئی ڈیمیرٹ پوائنٹ ریکارڈ پر موجود نہیں تھا۔

آئی سی سی کے پچ اینڈ آؤٹ فیلڈ مانیٹرنگ نظام کے تحت ”غیر تسلی بخش“ درجہ ملنے پر ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا جاتا ہے، جبکہ ”ناقابلِ کھیل“ قرار دیے جانے پر تین ڈیمیرٹ پوائنٹس دیے جاتے ہیں۔

ڈی میرٹ پوائنٹس پانچ سال تک مؤثر رہتے ہیں۔ اگر کسی وینیو کے چھ ڈیمیرٹ پوائنٹس ہو جائیں تو اسے 12 ماہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کی میزبانی سے روک دیا جاتا ہے، جبکہ 12 پوائنٹس کی صورت میں یہ پابندی 24 ماہ تک ہو جاتی ہے۔

Comments

200 حروف