ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتیں گر گئیں، سرمایہ کار محتاط
- برینٹ کروڈ کے سودے 91 سینٹس یا 1 فیصد کمی کے ساتھ 93.34 ڈالر فی بیرل پر آگئے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپیل کے بعد ایران اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے اعلان کے بعد منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جس سے گزشتہ سیشن کے دوران ہونے والا زیادہ تر اضافہ ختم ہو گیا، اگرچہ دونوں فریقین نے یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ وہ دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرسکتے ہیں۔
برینٹ کروڈ (خام تیل) کے سودے 91 سینٹس یا 1 فیصد کمی کے ساتھ 93.34 ڈالر فی بیرل پر آگئے جبک ہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 1.13 ڈالر یا 1.2 فیصد گراوٹ کے ساتھ 90.17 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
ایران پر اسرائیل کے دوبارہ فضائی حملوں اور لبنان میں کارروائیوں کے بعد گزشتہ سیشن میں تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد تک اضافہ ہوا تھا جس سے وسیع تر جنگ کے فوری خاتمے کی امیدیں دم توڑ گئیں، تاہم ایران کی مسلح افواج کی جانب سے اسرائیل کے خلاف فوجی آپریشن ختم کرنے کے اعلان کے بعد قیمتوں میں ہونے والا یہ اضافہ کم ہوگیا۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹیرر کا کہنا ہے کہ اگرچہ براہِ راست حملوں میں حالیہ وقفے سے کچھ ریلیف ملا لیکن سرمایہ کار اب بھی اس بات پر مطمئن نہیں کہ یہ جنگ بندی برقرار رہے گی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر فائرنگ بند کرنے کی اپیل کے بعد ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا ، تاہم تہران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھا تو وہ دوبارہ حملے شروع کردے گا۔
آئی جی مارکیٹ اینالسٹ ٹونی سیکامور نے کہا کہ اگرچہ اس اقدام نے صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے میں مدد دی ہے لیکن جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ اب بھی کشیدہ ہے اور مستقل امن معاہدہ ابھی تک دور کی بات نظر آتا ہے۔
اسرائیلی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو اسرائیل پوری طاقت سے جواب دے گا۔
پیر کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کا آغاز کرتے ہیں تو شاید وہ خود کو اس جنگ میں اکیلا پائیں۔
ٹم واٹیرر کا کہنا ہے کہ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا کشیدگی کم کرنے کی موجودہ کوششیں بالآخر کسی دیرپا حل میں تبدیل ہو سکتی ہیں یا پھر ہم محض ایک اور عارضی خاموشی کے دور سے گزر رہے ہیں۔
امن مذاکرات میں واشنگٹن کی جانب سے تہران پر ڈالے جانے والے کلیدی مطالبات میں سے ایک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہے جہاں سے فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں سے قبل دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق پیر کے روز عمان کی خلیج میں امریکی افواج نے خام تیل سے خالی ایک آئل ٹینکر کو اس وقت ناکارہ بنا دیا جب اس نے ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ایرانی بندرگاہ کی طرف جانے کی کوشش کی۔
























Comments