شہریوں کو زبردستی سرحد پار بھیجنے کی متعدد بھارتی کوششیں ناکام بنا دیں، بنگلہ دیش کا دعویٰ
- سرحدی حدود میں بھارتی حکام کی جانب سے دراندازی کی 10 کوششیں ناکام بنائی گئیں، بارڈر گارڈ بنگلہ دیش
بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ اس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھارت کی جانب سے لوگوں کو زبردستی اپنے ملک میں دھکیلنے کی کئی کوششیں ناکام بنا دی ہیں۔ اس واقعے نے مبینہ غیر قانونی ہجرت پر دیرینہ تنازع کو دوبارہ ہوا دی ہے اور دونوں جنوبی ایشیائی ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحد دنیا کی طویل ترین زمینی سرحدوں میں سے ایک ہے، جو مختلف نوعیت کے جغرافیائی خطوں پر 4,000 کلومیٹر (2,500 میل) سے زیادہ طویل ہے، جس کی وجہ سے اس کی نگرانی انتہائی مشکل ہے۔
بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی پی) نے بتایا کہ اس نے سرحد کے مختلف حصوں پر بھارتی حکام کی جانب سے دراندازی کی 10 کوششوں کا پتا لگایا۔ دوسری طرف بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جو سرحدی ریاستوں تریپورہ، مغربی بنگال اور آسام میں برسرِاقتدار ہے کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کو ترجیح دے گی اور گزشتہ سال سے وہ بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”غیر قانونی درانداز“ قرار دے کر بنگلہ دیش دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ مسئلہ 2024 میں بنگلہ دیش کی بھارت نواز طویل المیعاد رہنما شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ بی جی بی نے ایک بیان میں کہا کہ کسی بھی فرد یا گروپ کو سرحد کے ذریعے بنگلہ دیش میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی بارڈر مینجمنٹ کے اصولوں اور دوطرفہ مفاہمت کی خلاف ورزی کی کسی بھی کوشش کی ”سختی سے مزاحمت“ کی جائے گی۔
بنگلہ دیشی سرحدی محافظوں نے گزشتہ ماہ ان خدشات کے پیشِ نظر سرحد کے بعض حصوں پر گشت تیز کر دیا تھا اور عوامی آگاہی مہم شروع کی تھی کہ بھارت غیر قانونی طور پر لوگوں کو بنگلہ دیش میں دھکیل رہا ہے۔ حکام حقوقِ انسانی کے گروپوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق ان ”پش انز“ کے تحت تصدیق اور وطن واپسی کے باقاعدہ طریقہ کار کے بغیر ہی لوگوں کو غیر رسمی طور پر بنگلہ دیش منتقل کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے مئی میں صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس نے بنگلہ دیش سے بھارت میں غیر قانونی طور پر مقیم 2,860 سے زائد مشتبہ بنگلہ دیشیوں کی شہریت کی تصدیق کرنے کا کہا ہے۔
گزشتہ روز جنوب مغربی سرحدی ضلع جھینایدہ میں پیش آنے والے ایک واقعے میں بی جی بی نے الزام لگایا کہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے بارڈر گیٹ کھول کر ایک قیدیوں کی وین میں 30 سے 35 افراد کو بنگلہ دیشی علاقے کی طرف منتقل کرنے کی کوشش کی۔ بی جی بی کے مطابق انہوں نے بھارتی گاڑی کو واپس جانے پر مجبور کر دیا۔ ڈھاکہ نے بارہا کہا ہے کہ بنگلہ دیشی شہری کے طور پر شناخت ہونے والے کسی بھی شخص کو سرحد پار دھکیلنے کے بجائے باقاعدہ قانونی اور سفارتی ذرائع سے واپس بھیجا جانا چاہیے۔ ڈھاکہ کے سرکاری حکام نے بتایا کہ اس مسئلے پر 8 سے 11 جون تک نئی دہلی میں دونوں ممالک کی سرحدی افواج کے ڈائریکٹر جنرل کی سطح کے مذاکرات میں بات چیت متوقع ہے۔






















Comments