امریکہ کے ایران پر نئے فضائی حملے، فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا
- امریکہ نے آخری بار پیر کے روز ایران کے خلاف ایسے حملے کیے تھے جنہیں اس نے دفاعی کارروائیاں قرار دیا تھا
امریکی فوج نے ایران میں ایک ایسے فوجی مقام کو نشانہ بناتے ہوئے نئے حملے کیے ہیں جسے حکام امریکی افواج اور آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری ٹریفک کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ یہ بات امریکی عہدیدار نے بدھ کو رائٹرز کو بتائی۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے عہدیدار نے کہا کہ امریکی فوج نے متعدد ایرانی ڈرونز کو بھی راستے میں روک کر مار گرایا، جنہیں اسی نوعیت کا خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔
یہ امریکی حملے، جن کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی، ایسے وقت میں کیے گئے جب تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والے اس تنازع کے بعد عالمی توانائی کی قیمتوں میں بھی شدید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران اور عمان امن معاہدے کے تحت مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کا انتظام سنبھالیں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ کھلی رہے گی۔
امریکہ نے آخری بار پیر کے روز ایران کے خلاف ایسے حملے کیے تھے جنہیں اس نے دفاعی کارروائیاں قرار دیا تھا، جبکہ ایران نے انہیں دونوں ممالک کے نازک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کہا تھا۔
امریکی اہداف میں وہ کشتیاں شامل تھیں جو بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں، جبکہ میزائل لانچنگ سائٹس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ مقامات امریکی افواج کے لیے خطرہ بن رہے تھے۔

























Comments