ٹرمپ کے "بورڈ آف پیس" سے منسلک غزہ کے سرکاری فنڈ میں کوئی رقم موجود نہیں
- ٹرمپ کے مجوزہ اور اقوامِ متحدہ کی توثیق یافتہ غزہ تعمیرِ نو فنڈ میں اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود کوئی نقد رقم موجود نہیں، جس کے باعث بحالی کے اہم منصوبے تعطل کا شکار ہیں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس“ سے منسلک غزہ تعمیرِ نو فنڈ میں، رکن ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کے وعدوں کے باوجود کوئی رقم موجود نہیں ہے۔ یہ بات ایک باخبر ذریعے نے بدھ کے روز اے ایف پی کو بتائی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس بورڈ کا تصور ٹرمپ نے غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے پیش کیا تھا، جہاں اکتوبر میں امریکا کی سرپرستی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سالہ تباہ کن جنگ کو روکنا تھا۔
تاہم بورڈ کے آغاز کے بعد اس کے فنڈ میں تاحال کوئی رقوم جمع نہیں ہو سکیں، حالانکہ اسے عالمی بینک کے زیرِ انتظام اور اقوامِ متحدہ کی توثیق حاصل ہے۔ ذریعے نے کہا کہ یہ فنڈ ابھی عملی طور پر “تعمیر نو کے مرحلے” کے لیے تیار نہیں ہوا، اسی لیے اس میں رقوم منتقل نہیں کی گئیں۔
اس دوران اسرائیلی فوجی کارروائیاں غزہ میں جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں، اور صحت کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک 910 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
اسرائیل اس وقت بھی غزہ کے تقریباً 60 فیصد حصے پر کنٹرول رکھتا ہے، جن میں تمام داخلی و خارجی راستے شامل ہیں، جبکہ آبادی زیادہ تر ساحلی علاقوں تک محدود ہو چکی ہے۔
ادھر فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ بورڈ کے ایک ترجمان کے حوالے سے رقوم براہِ راست جے پی مورگن کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی جا رہی ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق اس اکاؤنٹ کے لیے شفافیت کے آزادانہ تقاضے موجود نہیں ہیں۔
فرانس اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، جبکہ اس میں زیادہ تر امریکی اتحادی ممالک اور ٹرمپ کے قریبی یا چھوٹے شراکت دار شامل ہیں۔
ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ امریکا اس بورڈ کو 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا، جبکہ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کم از کم ایک ایک ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ چارٹر کے مطابق مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شراکت لازمی ہے۔
یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ کی اپریل میں جاری کردہ ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیر نو کے لیے آئندہ ایک دہائی میں 71 ارب ڈالر سے زائد درکار ہوں گے، جبکہ وہاں انسانی صورتحال کو ”انتہائی سنگین“ قرار دیا گیا ہے۔

























Comments