پاکستان کی چین سے 700 مصنوعات پر ٹیرف ریلیف کی درخواست
- اقدام کا مقصد تجارتی خسارے کو کم کرنا اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ کو ہلکا کرنا ہے
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا ہے کہ پاکستان، پاک چین آزاد تجارتی معاہدے (سی پی ایف ٹی اے) کے مجوزہ تیسرے مرحلے کے تحت چین سے تقریباً 700 مصنوعات پر یکطرفہ ٹیرف مراعات دینے کی باضابطہ درخواست کرنے جارہا ہے۔ پاکستان کا مقصد ان مراعات کے برابر درجہ حاصل کرنا ہے جو چین پہلے ہی افریقی اور آسیان ممالک کو دے چکا ہے۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کے دورۂ چین سے قبل، چینی حکام سے مشاورت کے بعد تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور سیکریٹری تجارت جواد پال ایک پیشگی وفد کے ہمراہ پہلے ہی بیجنگ پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر وزراء اور اعلیٰ حکام بھی مذاکراتی عمل میں معاونت کے لیے چین میں موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران پاکستان نے چین کو 2.375 ارب امریکی ڈالر مالیت کی اشیاء برآمد کی جن میں سے 2.16 ارب ڈالر کی برآمدات موجودہ آزاد تجارتی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ہوئیں، تاہم ملک کو اب بھی شدید تجارتی عدم توازن کا سامنا ہے جہاں چین سے سالانہ درآمدات تقریباً 20 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں برآمدات صرف قریباً 2 ارب ڈالر ہیں۔
پچھلے پانچ سالوں کے دوران پاکستان کے لیے چین کی برآمدات 100 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کرچکی ہیں جبکہ اس کے برعکس چین کے لیے پاکستان کی برآمدات صرف 10 ارب امریکی ڈالر کے قریب رہی ہیں۔
اس تجارتی عدم توازن کی بڑی وجہ پاکستان کا برآمداتی ڈھانچہ ہے جو زیادہ تر تانبے اور کپاس جیسے خام مال پر انحصار کرتا ہے، جنہیں بعد میں زیادہ مالیت کی تیار شدہ اشیاء کی شکل میں واپس (پاکستان) درآمد کرلیا جاتا ہے۔ حکام نے ویلیو ایڈڈ (اعلیٰ قدر کی تیار شدہ) اشیاء کی برآمدات کی طرف راغب ہونے کی ضرورت پر زور دیا ہے، بالخصوص ٹیکسٹائل، معدنیات اور گوشت کے شعبوں میں جہاں اکیلے گوشت کی برآمدات کا متوقع تخمینہ 5 ارب امریکی ڈالر ہے۔
مذاکرات کا موجودہ محور پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک بہتر رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ تیسرے مرحلے کے مباحثوں کے تحت صحتِ عامہ اور نباتات (ایس پی ایس) اور تجارت میں تکنیکی رکاوٹوں سے متعلق ایک درجن سے زائد پروٹوکولز پر پہلے ہی دستخط کیے جاچکے ہیں جبکہ مراعات کے لیے 700 ٹیرف لائنز کی ایک مجوزہ فہرست بھی تیار کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر سہولتی اقدامات بھی زیرِ غور ہیں جن میں خنجراب کے مقام پر ایک گرین چینل کا قیام بھی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے چین کے درآمدی رجحانات کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے تاکہ ان شعبوں کی نشاندہی کی جاسکے جہاں پاکستانی مصنوعات مقابلہ تو کر سکتی ہیں لیکن آسیان اور افریقی ممالک کے مقابلے میں انہیں زیادہ ٹیرف کا سامنا ہے۔ چین نے یکم مئی 2026 سے 53 افریقی ممالک کو یکطرفہ طور پر زیرو ٹیرف کی رسائی دے دی ہے جبکہ آسیان ممالک بھی مسلسل ترجیحی ٹیرف کی مراعات سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔
پاکستان ان ممالک کے مساوی مارکیٹ تک رسائی کا خواہاں ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ پاک-چین آزاد تجارتی معاہدے کے تحت پہلے ملنے والی مراعات، چین کے آسیان ممالک کے ساتھ بعد میں ہونے والے تجارتی معاہدوں اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کے ساتھ ترجیحی انتظامات کی وجہ سے ماند پڑ گئی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنا اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ کو ہلکا کرنا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کو بریفنگ دی گئی ہے کہ وہ بیجنگ میں اپنی ملاقاتوں کے دوران ان مراعات کی بھرپور وکالت کریں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات کے بغیر چین کی بڑھتی ہوئی عالمی تجارتی رسائی کے پیشِ نظر پاکستان آزاد تجارتی معاہدے سے مکمل فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے گا۔
ذرائع نے نشاندہی کی ہے کہ آسیان اور افریقی ممالک کو دیے گئے ترجیحی سلوک کے باعث پاکستان سی پی ایف ٹی اے سے متوقع فوائد حاصل نہیں کرسکا ۔ اگر چین نشاندہی کردہ اشیاء پر صفر ٹیرف دینے پر رضامند ہو جاتا ہے تو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے مستقل تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
دونوں ممالک اس وقت پاک-چین آزاد تجارتی معاہدے کے فیز II (دوسرے مرحلے) کے تحت کام کر رہے ہیں جس کا نفاذ جنوری 2020 میں ہوا تھا۔ مالی سال 25-2024 میں دوطرفہ تجارت تقریباً 19.4 ارب امریکی ڈالر رہی، جس میں پاکستان کا (چین کے ساتھ) تجارتی خسارہ 2025 میں اس کے مجموعی تجارتی خسارے کے تقریباً 59 فیصد کے برابر تھا کیونکہ برآمدات قریباً 2.37 ارب ڈالر پر بڑی حد تک جمود کا شکار رہیں۔
مزید برآں توقع ہے کہ پاکستان چاول کی برآمدات کے لیے مخصوص ریلیف اقدامات کا خواہاں ہوگا جس میں موجودہ 1 فیصد امپورٹ ڈیوٹی (درآمدی ڈیوٹی) کی چھوٹ اور ایک خصوصی امپورٹ کوٹے کی الاٹمنٹ شامل ہے، بالکل اسی طرح کے انتظامات کے تحت جو چین نے 20-2019 کے دوران فراہم کیے تھے۔
اسلام آباد پاکستانی برآمد کنندگان اور تاجروں کے لیے ویزوں کے اجراء میں سہولت فراہم کرنے کی بھی درخواست کرے گا تاکہ مارکیٹ میں ان کی رسائی اور روابط کو مزید بڑھایا جا سکے۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پائیدار تجارتی توازن حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ چین، پاکستان کے برآمدات پر مبنی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026




















Comments