آبنائے ہرمز پر کنٹرول سے نمایاں اقتصادی آمدن حاصل ہوگی، ایرانی فوج
- امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو جنگ شروع کرنے کے بعد سے ایران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی محدود کر رکھی ہے
ایران کے فوجی ترجمان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ تہران کا آبنائے ہرمز پر کنٹرول ملک کے لیے ”نمایاں“ اقتصادی آمدن کا باعث بن سکتا ہے اور اس سے عالمی سطح پر ایران کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔
28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کرنے کے بعد سے ایران نے بڑی حد تک آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی محدود کر رکھی ہے۔
پرامن حالات میں اس آبی گزرگاہ سے دنیا بھر میں تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر ترسیل ہوتی ہے، جبکہ دیگر اہم تجارتی اشیا بھی اسی راستے سے گزرتی ہیں۔
آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت نے عالمی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور تہران کو نمایاں سفارتی و معاشی برتری فراہم کی ہے، جبکہ امریکا نے 8 اپریل سے جاری نازک جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق فوجی ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا، ”آبنائے ہرمز پر ہماری نگرانی ملک کے لیے نمایاں اقتصادی آمدن پیدا کرے گی، حتیٰ کہ ممکنہ طور پر ہماری تیل کی آمدن دوگنی ہو سکتی ہے، اور اس سے عالمی سطح پر ہمارا اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوگا۔“
انہوں نے بتایا کہ آبنائے کے مغربی حصے کا کنٹرول پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے پاس ہے، جبکہ مشرقی حصہ ایرانی بحریہ کی نگرانی میں ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول امریکا کے ساتھ مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے، اور اب تک ان مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
بدھ کے روز ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ان کی کمیٹی نے اس آبی گزرگاہ کے انتظام سے متعلق ایک منصوبہ حتمی شکل دے دی ہے۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا، ”اسلامی جمہوریہ ایران آبنائے ہرمز کے اس اسٹریٹجک مقام کو اس کی اسٹریٹجک مینجمنٹ کے ذریعے طاقت کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔“
گزشتہ ماہ ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے کہا تھا کہ تہران کو آبنائے سے گزرنے والے جہازوں پر عائد ٹول ٹیکس سے پہلی آمدن موصول ہو چکی ہے۔

























Comments