ٹیکسٹائل سیکٹر کا ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم اور فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی کا مطالبہ
- وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات
پاکستان کے ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر نے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے مطالبہ کیا ہے کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے، فائنل ٹیکس ریجیم کو دوبارہ نافذ کیا جائے، مقامی ٹیکسز اور لیویز کا خاتمہ کیا جائے اور برآمد کنندگان کے 327 ارب روپے سے زائد کے زیرِ التوا ریفنڈز اور ریبیٹس فوری طور پر ادا کیے جائیں۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سے ٹیکسٹائل اور اپیرل سیکٹر کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے تفصیلی ملاقات کی جس میں ملک بھر کے بڑے چیمبرز، ایسوسی ایشنز، برآمد کنندگان اور صنعت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز شامل تھے۔ وفد نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے تجاویز اور سفارشات کا ایک جامع مجموعہ پیش کیا جس کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل سیکٹر اور برآمدی صنعت کی مسابقت، پائیداری اور طویل مدتی ترقی کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیرِ خزانہ کو آگاہ کیا گیا کہ مجموعی واجبات اور ٹرن اوور پر 2 فیصد ایڈوانس ٹیکس کے باعث برآمد کنندگان پر ٹیکس کا بوجھ بڑھ کر 68.27 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ برآمد کنندگان کو فائنل ٹیکس ریجیم سے نکال کر منیمم ٹیکس ریجیم میں منتقل کرنے سے ان کی عالمی مسابقت اور برآمدی صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
ٹیکسٹائل سیکٹر کے نمائندوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ ٹیکسیشن اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن فریم ورک اس طرح وضع کیا گیا ہے کہ یہ برآمد کنندگان کے ورکنگ کیپٹل کا تقریباً 35 سے 40 فیصد حصہ ریفنڈ سسٹم میں بلاک کردیتا ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ٹیکسٹائل سیکٹر پر زور دیا کہ وہ اسپننگ یونٹس میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے طریقہ کار کو مرحلہ وار نافذ کرنا یقینی بنائے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ نے معیشت کے اہم شعبوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز کے ذریعے شفافیت، معیشت کی ڈاکیومنٹیشن اور ٹیکس قوانین کی بہتر تعمیل کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ چینی، سیمنٹ، مشروبات اور تمباکو سمیت کئی بڑے شعبوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا نظام پہلے ہی متعارف کرایا جا چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اقدام پر بلاامتیاز اور بغیر کسی استثنا کے عمل درآمد کیا گیا ہے، حتیٰ کہ ان شعبوں میں بھی جہاں وزیرِ اعظم کے خاندان سے وابستہ کاروباری ادارے سرگرم ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے شفافیت کو بہتر بنانا، کارکردگی بڑھانا، منصفانہ مقابلے کو فروغ دینا اور محصولات کی وصولی کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔
وزیرِخزانہ نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دعوت دی کہ وہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے اندر اسی طرح کے ڈیجیٹل مانیٹرنگ میکانزم کے بتدریج نفاذ کیلئے اپنا تعاون فراہم کریں۔ گفتگو کے دوران یہ بتایا گیا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بعض ایسوسی ایشنز اور صنعتی یونٹس پہلے ہی اس معاملے پر ایف بی آر کی ٹیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں اور کچھ یونٹس میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سے متعلق پائلٹ پراجیکٹس کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments