چینی ٹیکسٹائل کمپنی کا پاکستان میں بڑا مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرنے کا اعلان
- سالانہ برآمدات کا ہدف 50 کروڑ ڈالر
چینی ملبوسات ساز کمپنی چیلنج فیشن نے پاکستان میں اپنے آپریشنز میں نمایاں توسیع کا منصوبہ بنایا ہے جس کا طویل المدتی ہدف سالانہ 400 سے 500 ملین ڈالر تک برآمدات حاصل کرنا ہے۔
بدھ کو جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق ان منصوبوں پر وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور چیلنج فیشن کے چیئرمین ہوانگ اور چیلنج اپیرل کی سی ای او کیرن چین کی سربراہی میں آنے والے چینی کاروباری وفد کے درمیان ملاقات میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں برآمدی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری، صنعتی سہولت کاری، ریشنلائزیشن اور وسیع تر پاک-چین اقتصادی تعاون پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے ٹیکسٹائل، ملبوسات اور دیگر شعبوں میں پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد نے وفاقی وزیر کو پاکستان میں اپنے جاری صنعتی منصوبے کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیت، روزگار کی فراہمی اور برآمدات میں اضافے کے حوالے سے وسیع تر توسیعی منصوبے بھی شیئر کیے۔
ہوانگ نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ کمپنی بین الاقوامی پیداواری معیارات کے مطابق پاکستان میں ایک بڑی مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کررہی ہے جس کا پہلا مرحلہ رواں سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ طویل مدتی توسیعی منصوبے کے تحت اپنی نوعیت کے بڑے صنعتی آپریشنز میں سے ایک قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے جس میں 20 ہزار تک ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور سالانہ تقریباً 400 سے 500 ملین ڈالر کی برآمدات حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
چینی وفد نے پاکستان کے اسٹریٹجک فوائد پر روشنی ڈالی جس میں اس کی مسابقتی افرادی قوت اور علاقائی و بین الاقوامی تجارتی راستوں کو جوڑنے والی جغرافیائی حیثیت شامل ہے۔ سرمایہ کاروں نے پاکستان کی صنعتی صلاحیت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور ملک میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے کے حوالے سے چینی کاروباری اداروں میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ذکر کیا۔
گزشتہ سال چیلنج فیشن نے پاکستان میں ایک اسپیشل اکنامک زون قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں پانچ سال کے دوران 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وفاقی وزیر جام کمال خان نے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے چینی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو سراہا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے، ریگولیٹری طریقہ کار کو سادہ بنانے اور مربوط ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے فعال طور پر کام کررہی ہے۔
گفتگو کے دوران جام کمال نے مشاہدہ کیا کہ بدلتی ہوئی عالمی معاشی حرکیات، ارتقاء پذیر سپلائی چینز اور تنوع میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پاکستان جیسے ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کررہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع، صنعتی استعداد اور مضبوط علاقائی روابط اسے برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کے لیے ایک انتہائی پرکشش مرکز بناتا ہے۔
ملاقات میں علاقائی روابط، لاجسٹکس، توانائی تک رسائی اور محفوظ و متنوع تجارتی راہداریوں کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت تجارتی سہولت کاری، صنعتی ترقی اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مضبوط معاشی انضمام کے لیے طویل مدتی مواقع فراہم کرتی ہے۔
چینی نمائندوں نے پاکستان میں اپنے کام کے مثبت تجربات شیئر کیے تاہم انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بعض اوقات بین الاقوامی تاثرات بیرونِ ملک کاروباری فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
وفد نے مخصوص صنعتی تعمیراتی مواد اور خام مال سے متعلق اپنی آپریشنل ضروریات کا معاملہ بھی اٹھایا جو فی الحال مقامی طور پر تیار نہیں کیے جا رہے اور بین الاقوامی مینوفیکچرنگ اور حفاظتی معیارات برقرار رکھنے کے لیے انہیں درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔
جام کمال نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ حکومت صنعتی ترقی کی حمایت اور صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے وفد کو آگاہ کیا کہ پاکستان اس وقت مرحلہ وار ٹیرف ریشنلائزیشن کے عمل پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد مینوفیکچررز کے لیے مسابقت کو بہتر بنانا اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرنا ہے۔
وزیرِ تجارت نے وفد کو دعوت دی کہ وہ مقامی طور پر تیار نہ ہونے والی مخصوص مصنوعات کی تفصیلات متعلقہ ٹیرف کی درجہ بندی کے ساتھ باقاعدہ طور پر جمع کرائیں تاکہ وزارت جاری ٹیرف ریشنلائزیشن فریم ورک کے تحت اس معاملے کا جائزہ لے سکے۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ اس طرح کی صنعتی ضروریات کے لیے سہولت فراہم کرنے سے مستقبل میں مقامی مینوفیکچرنگ کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ مارکیٹ میں ان کی کافی طلب پیدا ہو جائے۔
ملاقات میں منصوبے پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، بشمول زمین کی منظوری، بنیادی ڈھانچے کے معاملات، یوٹیلیٹی سہولیات اور اسپیشل اکنامک زون کے فریم ورک میں بہتری۔
وفاقی وزیر نے وفد کو آگاہ کیا کہ طریقہ کار کی رکاوٹوں کو کم کرنے اور صنعتی سرمایہ کاروں کے لیے ایز آف ڈوئنگ بزنس کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات جاری ہیں۔






















Comments