وزیر پٹرولیم کا ریفائنری اپ گریڈیشن اور توانائی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ
- علی پرویز ملک نے توانائی کی فراہمی، بیرونی انحصار میں کمی اور ماحول دوست یورو 5 ایندھن کے لیے ریفائنریز کی فوری جدید کاری پر زوردیا
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ریفائنری اپ گریڈیشن کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے ریفائننگ انفرااسٹرکچر کی جدید کاری توانائی کے تحفظ، صاف ستھرے ایندھن کے فروغ اور بیرونی مداخلت یا تعطل کے خلاف ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق انہوں نے یہ بات پیٹرولیم ڈویژن میں ملک کی آئل ریفائنریز کے سی ای اوز اور منیجنگ ڈائریکٹرز کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس کا مقصد براؤن فیلڈ اپ گریڈیشن ریفائنری پالیسی پر عملدرآمد کے عمل کا جائزہ لینا اور اسے تیز کرنا تھا۔
علی پرویز ملک نے ریفائننگ سیکٹر کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مقامی ریفائنریز ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور پاکستان کے توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اہم قومی اثاثہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے تنازع سے پیدا ہونے والی موجودہ علاقائی صورتحال نے بیرونی سپلائی چینز پر انحصار کم کرنے اور مقامی ریفائننگ کی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت کو مزید واضح کر دیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے زور دیا کہ موجودہ ریفائنریز کی بروقت اپ گریڈیشن پیداواری صلاحیت بڑھانے، کارکردگی بہتر بنانے اور عالمی معیارات کے مطابق صاف ستھرے یورو 5 ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن سے پاکستان کی ریفائنریز یوروفائیو کے معیار کا ایندھن تیار کر سکیں گی، جس سے ماحول کی بہتری، گاڑیوں کے انجن کی بہتر کارکردگی اور زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی واقع ہوگی۔
وفاقی وزیر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ 2023 میں ریفائننگ پالیسیز کے تعارف کے باوجود اب تک ان پر عملدرآمد کی رفتار سست رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنری کی جدید کاری کو آگے بڑھانے اور اس شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
دریں اثنا اجلاس میں ریفائننگ پالیسیز اور اپ گریڈیشن ایگریمنٹ ٹمپلیٹ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، تاکہ ان کے بروقت نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ریفائنریز کے سربراہان نے اہم چیلنجز پر روشنی ڈالی اور ان کے حل کے لیے عملی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے پیٹرولیم ڈویژن کی کوششوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔
اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا جو اپ گریڈیشن منصوبوں کی معاشی افادیت کو متاثر کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ ان چیلنجز کے حل کے لیے ایک جامع تجویز تیار کر کے آئندہ بجٹ سے قبل متعلقہ فورم پر پیش کی جائے، تاکہ ریفائننگ پالیسیوں پر بلا تاخیر عملدرآمد شروع ہو سکے۔






















Comments