ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کی صورتحال متاثر ہونے کے باعث ایف بی آر کیلئے اپنے فرائض کی انجام دہی اور اہداف کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایف بی آر پہلے ہی مالی سال 2026 کے ابتدائی 10 مہینوں میں اپنے ہدف سے 648 ارب روپے پیچھے ہے۔
پٹرولیم لیوی کا ہدف پورا نہ ہونے کا بھی امکان ہے جس کی وجہ نہ صرف یہ ہے کہ حکومت تیل کی بڑھتی قیمتوں کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کر رہی بلکہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں بھی کمی واقع ہورہی ہے۔
معاشی استحکام کی رفتار مسلسل بہتر ہو رہی تھی، دو سہ ماہیوں کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کر گئی تھی اور ایل ایس ایم کی کارکردگی بھی تسلی بخش رہی تھی۔ تاہم اب اس رفتار میں کمی آ رہی ہے جبکہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف، خصوصاً ٹیکس سے متعلق اشارئی اہداف کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
اگرچہ اپریل میں درآمدات 6.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جو 46 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، تاہم اسی مہینے درآمدی مرحلے پر ٹیکس وصولی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ اپریل کے دوران سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولی میں منفی شرح نمو ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق جاری تنازع کے باعث ٹیکس وصولی میں مجموعی طور پر 40 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا جس میں گیس کی درآمدات سے ہونے والا 15 ارب روپے کا شارٹ فال بھی شامل ہے۔ مزید برآں حکومت کے پاس ٹیکس قوانین کے مؤثر نفاذ کی مطلوبہ صلاحیت بھی محدود ہے۔ وزیراعظم نے ایف بی آر کو ہدایت دی ہے کہ مالی سال 2027 میں سخت نفاذی اقدامات کے ذریعے اپنی وصولی کو دوگنا کر کے 778 ارب روپے تک پہنچایا جائے۔ ایف بی آر پر بڑھتا ہوا یہ دباؤ جو بعض اوقات غیر ضروری بھی قرار دیا جا رہا ہے، کاروباری برادری میں نمایاں طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ کچھ تاجر اسے ہراسانی سے تعبیر کررہے ہیں جبکہ بعض اسے بھتہ خوری کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
ایف بی آر کی توجہ اب بھی بالائی 5 فیصد طبقے پر مرکوز ہے اور وہ تیزی سے سابقہ ادوار کے سپر ٹیکس کی وصولیوں پر انحصار کر رہا ہے، خصوصاً اس لیے کہ متعدد عدالتی فیصلے ٹیکس اتھارٹی کے حق میں آرہے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کررہی ہے جب سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب پہلے ہی کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہے۔ حکومت کو اس امر پر غور کرنا چاہیے کہ ٹیکسوں کی شرح میں کمی لائی جائے، بالخصوص سپر ٹیکس اور کارپوریٹ ڈھانچے میں منافع پر عائد ٹیکسوں کی متعدد تہوں کو ختم کیا جائے۔ یہ معاملہ کئی ماہ سے زیر بحث ہے اور حکومت نے کاروباری برادری کو غیر رسمی طور پر یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ کمپنیوں اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ مرحلہ وار کم کیا جائے گا۔ تاہم موجودہ صورتحال میں ایف بی آر اس لیے دباؤ کا شکار ہے کہ رواں مالی سال کے اہداف کی تکمیل مشکل ہوتی جارہی ہے۔
ابتدا میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ تیل کی قیمتیں مزید نیچے آئیں گی۔ مالی سال 2025 میں اوسط قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر جولائی تا فروری تقریباً 67 ڈالر فی بیرل رہ گئی جو تقریباً 10 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اندازہ تھا کہ قیمتیں 60 ڈالر فی بیرل کے قریب رہیں گی بلکہ اس سے بھی نیچے جا سکتی ہیں۔ حکومت کا منصوبہ یہ تھا کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اسے تقریباً دوگنا کیا جائے، تیل کی کم قیمتوں سے حاصل ہونے والے مالی فائدے سے استفادہ کیا جائے اور ساتھ ہی انکم ٹیکس میں کمی کر کے عوام میں معاشی بہتری کا احساس پیدا کیا جائے۔
تاہم جنگ نے منظرنامہ مکمل طور پر تبدیل ک دیا ہے۔ بدقسمتی سے حکومت کے پاس کوئی پلان بی موجود نہیں ہے۔ حکومت کے لیے بہترین صورتحال یہی ہے کہ وہ ملک کی جیو پولیٹیکل اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے کچھ رعایتیں حاصل کرے۔ اس کے ساتھ حکومت پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار اضافہ کر رہی ہے تاکہ اسے جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس لایا جاسکے۔
اس کے باوجود کھپت میں کمی کی وجہ سے مالیاتی ریونیو شارٹ رہے گا جس کے نتیجے میں ایف بی آر پر موجودہ ٹیکس بیس کو مزید نچوڑنے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ اب اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ اگلے سال کارپوریٹ سیکٹر اور تنخواہ دار طبقے کے ٹیکسوں میں کوئی خاطر خواہ کمی کی جا سکے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ سپر ٹیکس اور سرچارج میں معمولی کمی کردی جائے۔ خدشہ یہ ہے کہ ایف بی آر یہاں وہاں شرح بڑھانے کے لیے نئے اقدامات اور تبدیلیاں متعارف کروا سکتا ہے جس سے معاشی ترقی مزید دور ہو جائے گی۔ حکومت کے پاس اب کوئی آسان راستہ باقی نہیں رہا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments