اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب، برطانیہ کے اگلے وزیراعظم ہوں گے
- اقتدار ملا تو نظرانداز علاقوں کی محرومیوں کا خاتمہ اور عوام کی توقعات پر پورا اتروں گا، سربراہ لیبر پارٹی
برطانیہ میں کنگ آف دی نارتھ کے لقب سے مشہور اینڈی برنہم جمعہ کو ملک کی حکمران جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں، جس کے ساتھ ہی ان کا ایک دہائی میں پارٹی کے ساتویں وزیراعظم بننے کا آخری مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے۔
انہوں نے پاپولسٹ جماعت ریفارم یوکے کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔گریٹر مانچسٹر کے میئر کی حیثیت سے خطے کے مفادات کا بھرپور دفاع کرنے پر یہ شاہانہ لقب پانے والے 56 سالہ برنہم نے جمعہ کو ایک خصوصی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار سنبھالنے کے لیے تیار ہیں اور ہر جگہ کے نظرانداز کیے گئے علاقوں کے لوگوں کو امید فراہم کرنے کے لیے کام کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یہ لیبر پارٹی کے پاس اپنی قسمت بدلنے کا آخری موقع ہے اور وعدہ کیا کہ وہ اقتدار کو برطانوی سیاست کے مرکز ویسٹ منسٹر سے نکال کر ملک کے دیگر خطوں تک منتقل کریں گے۔ انہوں نے ایک ایسی متحد ٹیم کی قیادت کرنے کا بھی عزم کیا جو ملک میں وہ تبدیلی لائے گی جس کے لیے عوام شدت سے منتظر ہیں۔
انہوں نے لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ اور پارٹی عہدیداروں سے بھرے ہال سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم متحد ہیں اور اس اتحاد سے ملنے والی طاقت کو ہم ان لوگوں اور علاقوں کی خدمت میں لگائیں گے جو سیاست سے دوبارہ امید لگانے کے لیے طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں اور ہم یہی کرنے جا رہے ہیں، ہم ان کی امیدیں واپس لوٹائیں گے۔ انہوں نے کیئر اسٹارمر کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جن کی جگہ وہ پیر کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ پارٹی پیر کو ہی ان کی کابینہ ٹیم اور حکومت چلانے کے طریقہ کار کے بارے میں جاننے کے لیے بے تاب ہوگی۔
برنہم کا ”اقتدار کی منصفانہ تقسیم“ کا بڑا منصوبہ
خطوں کو اختیارات سونپنے اور کاروبار نواز پالیسی اپنانے کے عزم کو دہرانے کے باوجود ابھی برنہم کی پالیسی ترجیحات کے بارے میں بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ اینڈی برنہم نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک اپنی کابینہ کے وزراء کا فیصلہ نہیں کیا لیکن وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ ٹیم ہماری پارٹی کے تمام حصوں اور تمام برادریوں کی عکاس ہو۔ انہوں نے پانچ ترجیحات کا ذکر کیا، جن کا مقصد بڑے پیمانے پر پارٹی اتحاد برقرار رکھنا اور برطانیہ کے تمام حصوں کا رہنما بننا ہے۔اس مقابلے میں بلامقابلہ منتخب ہونے کے بعد اپنے پیغام میں انہوں نے ان منصوبوں کی زیادہ تفصیلات بیان نہیں کیں جو انہوں نے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ میں واپسی پر دی گئی واحد تقریر میں پیش کیے تھے۔ وہ میکر فیلڈ سے سیٹ جیت کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں، جو اسٹارمر کی جگہ لینے کے عمل کا آغاز تھا۔اس تقریر میں انہوں نے اپنے داخلی ایجنڈے کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ برطانیہ کے خطوں کو اقتدار کی اب تک کی سب سے بڑی منصفانہ منتقلی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے ناانصافی اور ان نظرانداز شدہ برادریوں کے غصے میں کمی آئے گی جو تیزی سے ریفارم یوکے اور بعض صورتوں میں بائیں بازو کی گرین پارٹی کی طرف مائل ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ لیبر پارٹی ان دونوں جماعتوں کے خطرے کا مقابلہ اپنی اصل شناخت یعنی ”بغیر کسی لچک کے پراعتماد اور حقیقی لیبر پارٹی“ بن کر کر سکتی ہے، نہ کہ ان کی نقل کر کے۔
نائجل فراج کی ”ریفارم یوکے“ کو روکنے کا عزم
برنہم کے اس موقف نے لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کا دل جیت لیا ہے کہ ان کے پاس ریفارم یوکے کے عروج کو روکنے کا منصوبہ ہے۔ ان اراکین کو خدشہ تھا کہ وہ 2029 میں ہونے والے اگلے قومی انتخابات میں بریکسٹ کے کٹر حامی نائجل فراج کی پاپولسٹ پارٹی کے ہاتھوں اپنی پارلیمانی نشستیں ہار جائیں گے۔ ریفارم یوکے گزشتہ کئی ماہ سے عوامی جائزوں (اوپینین پولز) میں سب سے آگے ہے۔تاہم حالیہ ہفتوں میں نائجل فراج کی جانب سے امیر ترین سرمایہ داروں سے فنڈز لینے کی وجہ سے ان کی مقبولیت کو کچھ دھچکا لگا ہے، جس سے برنہم کو لیبر پارٹی کی قسمت بدلنے کا ایک موقع مل سکتا ہے۔اس کے باوجود لیبر پارٹی کے نئے قائد کو اپنے ان وعدوں پر فوری عمل درآمد شروع کرنا ہوگا جن کی بنیاد طویل مدتی سوچ پر ہے۔ برطانیہ کی ٹریڈ یونینز کی مرکزی تنظیم (ٹی یو سی) کے جنرل سیکرٹری پال نواک کا کہنا ہے کہ اینڈی برنہم کی حکومت کو فوری طور پر متحرک ہونا پڑے گا اور محنت کش لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے پر بھرپور توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔
برنہم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے سے تیزی سے کام شروع کریں گے۔ انہوں نے کہا جس حکومت کی میں قیادت کروں گا، وہ اگلے ہفتے سے پراعتماد طریقے سے اس راستے پر گامزن ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی یہ تبدیلی گزشتہ 40 سالوں میں ہماری سیاست کا سب سے اہم موڑ ہے۔


























Comments