پاکستان اور کویت کے درمیان وسیع تر دفاعی معاہدے پر مذاکرات
- دونوں ممالک کے مابین بات چیت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، ذرائع
ذرائع کے مطابق پاکستان توانائی کے شعبے میں تعاون اور سرمایہ کاری کے بدلے کویت کے ساتھ وسیع تر دفاعی معاہدے کے لیے ابتدائی مراحل میں ہے۔ تاہم امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ان مذاکرات کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
اسلام آباد میں یہ خدشات موجود ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ سال کا مشترکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو امریکہ ایران تنازع میں گھسیٹ سکتا ہے۔ پیر کو حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملے کے بعد پاکستان نے ایران کو واضح کیا تھا کہ وہ مملکت پر حملے کو خود پر حملہ تصور کرے گا۔ اب کویت کے ساتھ کسی بھی معاہدے سے مستقبل میں امریکہ ایران ثالثی میں پاکستان کے کردار پر سوالات اٹھیں گے۔
کویت کا پاکستان کے ساتھ 2023 سے محدود تربیتی معاہدہ ہے، مگر اب وہ سعودی طرز پر ہزاروں پاکستانی فوجیوں، لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی تعیناتی چاہتا ہے۔ تاہم پاکستانی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر جنگی دستوں کی تعیناتی پر غور نہیں کیا جا رہا۔ خلیجی ممالک اب امریکہ پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستان کو ایک محفوظ متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، کیونکہ پاکستان ایک بڑی مسلم فوج رکھتا ہے اور اس کے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اس کے علاوہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب بھی ایک علیحدہ دفاعی معاہدے کا مسودہ تیار کر رہے ہیں، جبکہ بحرین اور اردن نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔پاکستان ان دفاعی سودوں کو اپنی معاشی اور توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ کویت کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے تحت پاکستان ایندھن کے ذخائر (بانڈڈ فیول اسٹوریج) بڑھانے کے لیے کوشاں ہے، جو ڈیزل کی سپلائی کے موجودہ سرکاری معاہدے کو وسعت دے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی کشیدگی کم ہوتے ہی مذاکرات تیز ہوں گے، مگر سڈنی کی یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے محقق محمد فیصل نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی بساط سے بڑھ کر وعدے کرنے کے خطرات سے باخبر رہنا ہوگا۔


























Comments