BR100 Increased By (0.26%)
BR30 Increased By (0.49%)
KSE100 Increased By (0.31%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 58.17 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
BIPL 27.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 34.65 Increased By ▲ 0.25 (0.73%)
CNERGY 13.74 Increased By ▲ 0.63 (4.81%)
DFML 18.60 Increased By ▲ 0.20 (1.09%)
DGKC 216.30 Increased By ▲ 2.64 (1.24%)
FABL 99.78 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
FCCL 57.78 Decreased By ▼ -0.28 (-0.48%)
FFL 16.50 Increased By ▲ 0.27 (1.66%)
GGL 24.08 Increased By ▲ 0.10 (0.42%)
HBL 334.95 Decreased By ▼ -3.21 (-0.95%)
HUBC 213.10 Decreased By ▼ -0.26 (-0.12%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.46 Increased By ▲ 0.03 (0.4%)
LOTCHEM 27.64 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
MLCF 102.50 Decreased By ▼ -0.25 (-0.24%)
OGDC 320.40 Increased By ▲ 1.48 (0.46%)
PAEL 43.01 Decreased By ▼ -0.09 (-0.21%)
PIBTL 16.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.18%)
PIOC 274.50 Increased By ▲ 1.50 (0.55%)
PPL 231.97 Increased By ▲ 2.52 (1.1%)
PRL 76.85 Increased By ▲ 6.05 (8.55%)
SNGP 103.50 Decreased By ▼ -1.08 (-1.03%)
SSGC 27.20 Decreased By ▼ -0.21 (-0.77%)
TELE 8.56 Increased By ▲ 0.03 (0.35%)
TPLP 15.58 Decreased By ▼ -0.18 (-1.14%)
TRG 60.05 Decreased By ▼ -0.24 (-0.4%)
UNITY 11.56 Decreased By ▼ -0.16 (-1.37%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.03 (2.5%)
کاروبار اور معیشت

10 ماہ میں تقریباً 34 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول

  • جولائی تا اپریل ترسیلاتِ زر 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 33.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں
شائع اپ ڈیٹ

اپریل 2026 کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.54 ارب ڈالر رہا۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے پیر کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ترسیلاتِ زر میں ماہانہ بنیادوں پر 7.6 فیصد کمی جب کہ سالانہ بنیادوں پر 11.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رواں مالی سال جولائی تا اپریل ترسیلاتِ زر 8.5 فیصد اضافے کے ساتھ 33.86 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جب کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 31.21 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے۔

ترسیلاتِ زر ملک کے بیرونی کھاتوں کو سہارا دینے، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدنی میں اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

دریں اثنا حکومت ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافے اور معاشی استحکام میں ان کے مؤثر کردار کو برقرار رکھنے کے لیے مراعات فراہم کرنے کے ساتھ قانونی ذرائع کے استعمال کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف ریسرچ وقاص غنی نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2026 کے اختتام کے قریب پہنچتے ہی بیرونی اکاؤنٹ کی صورتحال غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے۔

تجزیہ کاروں نے نشاندہی کی ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور درآمدی رجحان برقرار رہنے کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر شدید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے جسے مقامی پیداوار کے ذریعے پورا کرنا ممکن نہیں۔

زرمبادلہ ذخائر کے اہداف میں پہلے ہی 1 ارب ڈالر کی کمی کی جاچکی ہے جس سے بیرونی مالی امداد پر انحصار مزید بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔

ترسیلاتِ زر کی تفصیلات

سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں نے اپریل 2026 میں سب سے زیادہ رقم بھیجی جو کہ 842 ملین ڈالر رہی۔ یہ رقم گزشتہ سال اسی مہینے میں تارکین وطن کی جانب سے بھیجے گئے 725 ملین ڈالر کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے۔ تاہم مارچ 2026 میں موصول ہونے والے 919 ملین ڈالر کے مقابلے میں یہ رقم 8 فیصد کم رہی۔

متحدہ عرب امارات سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد اضافہ ہوا جو اپریل 2025 کے 653 ملین ڈالر سے بڑھ کر اپریل 2026 میں 735 ملین ڈالر ہو گئیں۔ تاہم ماہانہ بنیادوں پر ان میں 11 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

اپریل 2026 کے دوران برطانیہ سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر کی مالیت 564 ملین ڈالر رہی جو مارچ کے 587 ملین ڈالر کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہے۔

امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے اپریل میں 318 ملین ڈالر بھیجے جو مارچ کے 359 ملین ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد ماہانہ کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔

دریں اثنا اپریل میں یورپی یونین کے ممالک سے آنے والی ترسیلاتِ زر 432 ملین ڈالر رہیں جو مارچ کے 414 ملین ڈالر کے مقابلے میں ماہانہ بنیادوں پر 4 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں۔

Comments

200 حروف