پی ایچ ایم اے کا بجٹ سے قبل ٹیکس، توانائی اور تجارتی اصلاحات کا مطالبہ
- ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی برآمدی صنعت موجودہ ٹیکس نظام کے تحت زندہ نہیں رہ سکتی
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایچ ایم اے) نے وفاقی بجٹ 2026-27 سے قبل حکومت سے ٹیکس، توانائی اور تجارتی پالیسیوں میں بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی ٹیرف نظام اور مجوزہ یورپی یونین-بھارت آزاد تجارتی معاہدے کے ممکنہ اثرات سے پاکستان کی برآمدات کو تحفظ دینے کے لیے فوری سفارتی اقدامات پر زور دیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے سامنے پیش کیے گئے نو نکاتی ایجنڈے میں ایسوسی ایشن نے ٹیکس میں ریلیف، یوٹیلیٹی لاگت میں کمی اور لیبر کنٹریبیوشنز میں فوری نرمی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی ایچ ایم اے کے پیٹرن اِن چیف اور سابق چیئرمین محمد جاوید بلوانی نے یہ تجاویز چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی والا کو پیش کیں۔
ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی برآمدی صنعت موجودہ ٹیکس نظام کے تحت زندہ نہیں رہ سکتی، اور ٹیکس پالیسی کو اس طرح تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ کاروبار کی ترقی سے خود بخود ٹیکس نیٹ اور ریونیو بڑھے۔
پی ایچ ایم اے نے برآمد کنندگان کے لیے فکسڈ یا فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک فیصد ٹرن اوور ٹیکس اور سپر ٹیکس کے خاتمے کی سفارش کی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق موجودہ ٹیکس ڈھانچہ اس لیے غیر حقیقی ہے کیونکہ برآمدی منافع مارجن صرف 2 سے 3 فیصد تک محدود ہے۔
تنظیم نے انرجی ٹیرف میں بھی فوری کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی لاگت 14 سینٹ فی کلو واٹ آور ہے جبکہ ویتنام، بنگلہ دیش اور بھارت میں یہ شرح اس سے کہیں کم ہے۔ گیس کے نرخ بھی پاکستان میں 14.13 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہیں، جو خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔
پی ایچ ایم اے نے حکومت سے ریجنلی کمپٹٹیٹو انرجی ٹیرف بحال کرنے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کو اصل شکل میں واپس لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ڈیوٹی ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز اسکیم کی بحالی بھی تجویز کی گئی ہے۔
لیبر ویلفیئر کے حوالے سے تنظیم نے ای او بی آئی، سوشل سیکیورٹی اور دیگر لازمی کنٹریبیوشنز معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور بنگلہ دیش ماڈل کے مطابق ایکسپورٹ ٹرن اوور پر کم شرح کنٹریبیوشن کا نظام تجویز کیا ہے۔
مزید برآں، پی ایچ ایم اے نے برآمدات اور تجارت کو مکمل طور پر وفاقی دائرہ اختیار میں دینے اور صوبائی مداخلت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ یورپی یونین-بھارت ایف ٹی اے، امریکی ٹیرف پالیسی اور علاقائی کشیدگی پاکستان کی برآمدات اور ترسیلات زر کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، اس لیے فوری تجارتی سفارتکاری ناگزیر ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments