واشنگٹن واپسی پر، جہاں انہوں نے چین کے ساتھ کیے گئے اپنے بقول ’’شاندار تجارتی معاہدوں‘‘ کا ذکر کیا، ٹرمپ نے ٹیرف سے متعلق کہا: ’’ہم نے اس پر بات نہیں کی… یہ موضوع اٹھایا ہی نہیں گیا۔‘‘
امریکی سپریم کورٹ کے ہنگامی اختیارات کے تحت عائد ٹیرف کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے نے مالیاتی منڈیوں میں فوری خوف و ہراس پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ سوال اٹھا دیا کہ گزشتہ ایک سال سے تجارتی پوزیشننگ کو تشکیل دینے والے پالیسی ٹولز کتنے پائیدار ہیں؟
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ منگل سے تمام ممالک سے امریکی درآمدات پر ایک نیا 10فیصد محصول عائد کریں گے، جو مختلف قانون کے تحت ابتدائی طور پر 150 دنوں کے لیے لاگو ہوگا
پاکستان فوری اور فعال انداز میں تمام دستیاب سفارتی، اسٹریٹجک اور تجارتی ذرائع استعمال کرے تاکہ امریکی انتظامیہ سے باہمی محصولات میں کمی کے لیے بات چیت کی جا سکے، پی ٹی سی
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں جغرافیائی و سیاسی طاقتیں دنیا کی دو بڑی معیشتوں، چین اور امریکہ، سے اقتصادی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں
عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی معیشت کی مجموعی موجودہ جی ڈی پی 110.98 کھرب امریکی ڈالر ہے، جس میں امریکا 28.7 کھرب ڈالر کے ساتھ سب سے بڑی معیشت ہے اور عالمی پیداوار کا تقریباً 26 فیصد حصہ رکھتا ہے
یہ دونوں تنازعات—ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملہ اور امریکا کی جانب سے گرین لینڈ کی متوقع خریداری—عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر متوقع شرحِ نمو سے کم رفتار کے امکانات نمایاں ہو گئے ہیں