وائٹ ہاؤس کی رپورٹ میں طویل عرصے سے جاری ’غیر قانونی ٹرانس شپمنٹ‘ کے خدشے کو ہدف بنایا گیا ہے، جس کے تحت زیادہ ٹیرف سے بچنے کے لیے سامان کم ٹیرف والے کسی تیسرے ملک کے راستے بھیجا جا سکتا ہے
مبینہ طور پر جبری مشقت پر پابندیوں کے کمزور نفاذ کے الزام میں 60 ممالک پر 10 یا 12.5 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا ٹرمپ کا تازہ عالمی اقدام، درحقیقت متعدد نئے تجارتی محصولات کے سلسلے کی پہلی کڑی ہے
واشنگٹن واپسی پر، جہاں انہوں نے چین کے ساتھ کیے گئے اپنے بقول ’’شاندار تجارتی معاہدوں‘‘ کا ذکر کیا، ٹرمپ نے ٹیرف سے متعلق کہا: ’’ہم نے اس پر بات نہیں کی… یہ موضوع اٹھایا ہی نہیں گیا۔‘‘
امریکی سپریم کورٹ کے ہنگامی اختیارات کے تحت عائد ٹیرف کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے نے مالیاتی منڈیوں میں فوری خوف و ہراس پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ سوال اٹھا دیا کہ گزشتہ ایک سال سے تجارتی پوزیشننگ کو تشکیل دینے والے پالیسی ٹولز کتنے پائیدار ہیں؟
ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ منگل سے تمام ممالک سے امریکی درآمدات پر ایک نیا 10فیصد محصول عائد کریں گے، جو مختلف قانون کے تحت ابتدائی طور پر 150 دنوں کے لیے لاگو ہوگا