پانڈا بانڈ کا اجرا آخری مراحل میں ہے، وزیرِ خزانہ
پاکستان بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے ایک متنوع حکمت عملی تیار کررہا ہے جس کے تحت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا ہے کہ 250 ملین ڈالر کے پانڈا بانڈ کا اجرا آخری مراحل میں ہے۔
وزیرِخزانہ محمد اورنگزیب نے یہ اعلان منگل کو یورپی یونین ۔ پاکستان اعلیٰ سطح بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم افتتاحی پانڈا بانڈز کے آخری مراحل میں ہیں۔ یہ چینی کرنسی (آر ایم بی) میں تقریباً 250 ملین ڈالر مالیت کے ہوں گے، اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو مئی کے وسط تک ہم اسے بھی حتمی شکل دے کر جاری کردیں گے۔
وزیرِ خزانہ نے مطلع کیا کہ حکومت نے بین الاقوامی منڈیوں سے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے گلوبل میڈیم ٹرم نوٹ (جی ایم ٹی این) پروگرام کا بھی اعلان کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ دو سے تین سال تک ہم یورو بانڈز اور سکوک تک رسائی حاصل کرسکیں گے اور پہلی بار ہم ڈالر میں طے شدہ روپے کی شرح والے بانڈ کی کوشش کرنے جا رہے ہیں کیونکہ ہمیں اپنے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی طرف سے بہت زیادہ فیڈ بیک ملا ہے کہ ہماری مصنوعات کے ذخیرے میں اس لنک کی کمی محسوس کی جارہی تھی۔
قبل ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ رواں سال جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ اس سے ہمیں تقریباً تین ماہ کا امپورٹ کور (درآمدی بل کی ادائیگی کی صلاحیت) حاصل ہو جائے گا جو کہ ایک بین الاقوامی معیار ہے۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ سرمایہ کاروں کے لیے منافع اور ڈیوڈنڈ کی واپسی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، آگے بڑھتے ہوئے میکرو اکنامک استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
ٹیکسیشن کے محاذ پر وزیرِ خزانہ نے اعتراف کیا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے حکومت کو ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیکس اور جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری لانے اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دے کر مجموعی محصولات میں اضافے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے اپنے نظام میں موجود خامیوں اور لیکیجز کو دور کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔
























Comments