آبنائے ہرمز سے 24 گھنٹوں کے دوران صرف 5 جہاز ہی گزرے ہیں، شپنگ ڈیٹا رپورٹ
- نازک جنگ بندی کے دوران خلیج کی اہم آبی گزرگاہ سے محدود جہاز رانی جاری
جمعہ کے شپنگ ڈیٹا کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران صرف پانچ جہاز، جن میں ایک ایرانی تیل مصنوعات کا ٹینکر بھی شامل تھا، آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، حالانکہ رواں ہفتے ایران نے دو کنٹینر شپس قبضے میں لے لیں اور امریکہ ایرانی بندرگاہوں کو بند رکھنے کی ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔
خلیج کے داخلی راستے سے یہ شپنگ ٹریفک، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان نازک جنگ بندی کے دوران گزری ہے، ایران جنگ سے پہلے کے روزانہ 140 جہازوں کے اوسط کا محض ایک حصہ ہے۔
شپنگ ایسوسی ایشن بیمکو (بی آئی ایم سی او) کے چیف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی آفیسر جیکب لارسن نے کہا کہ ”زیادہ تر شپنگ کمپنیوں کے لیے ضروری ہے کہ ایک مستحکم جنگ بندی ہو اور تنازع کے دونوں فریقین سے یہ یقین دہانی ملے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنا محفوظ ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”اس دوران شپنگ ایران اور عمان کے قریب راستوں تک محدود رہے گی۔ چونکہ یہ راستے تنگ ہیں، لہٰذا یہ آبنائے ہرمز کے معمول کے حجم کو محفوظ طور پر برداشت نہیں کر سکتے۔“
ایرانی پرچم والے تیل مصنوعات کے ٹینکر نکی، جو امریکہ کی پابندیوں کی زد میں ہے، ان چند جہازوں میں شامل تھا جو بغیر کسی مقررہ منزل کے آبنائے ہرمز سے نکلے، جیسا کہ کیپلر کے تجزیے اور میرین ٹریفک پلیٹ فارم کے ڈیٹا سے جمعہ کو معلوم ہوا ہے۔
یہ واضح نہیں تھا کہ اگر یہ جہاز مزید مشرق کی طرف، امریکی بحریہ کی بلاکڈ لائن کی جانب روانہ ہوتا ہے تو کیا ہوگا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کیے جانے کے تقریباً دو ماہ بعد جب امن مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے کوئی واضح آثار نہیں ہیں، کنٹینر شپنگ گروپ ہیپگ لائیڈ نے جمعہ کو بتایا ہے کہ اس کے ایک جہاز نے آبنائے ہرمز عبور کرلیا، لیکن حالات یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کوموروس کے پرچم بردار سپر ٹینکر ہیلگا جمعہ کو عراق کے جنوبی بصرہ بندرگاہ کے آف شور تیل لوڈنگ ٹرمینل پہنچا، یہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد عراق پہنچنے والا دوسرا جہاز ہے۔
چند چھوٹے اور تیز رفتار ایرانی جہازوں نے بدھ کو آبنائے ہرمز کے قریب دو کنٹینر شپس قبضے میں لے کر شپنگ اور تیل کمپنیوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
اوشن اور ایئر فریٹ انٹیلی جنس پلیٹ فارم زینیٹا کے چیف اینالسٹ پیٹر سینڈ نے کہا ہے کہ ” حالیہ دنوں میں بحری جہازوں کو قبضے میں لینے کے واقعات ں سے واضح ہوا کہ حتیٰ کہ ’کھلا‘ آبنائے ہرمز بھی جہازران، جہاز اور مال برداری کے لیے محفوظ نہیں ہے۔“
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے تجزیے کے مطابق 22 اپریل سے 23 اپریل کے اوائل تک سات جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جن میں سے چھ ایران سے متعلق تجارت میں مصروف تھے۔
آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کی تیل اور لیکوئفائیڈ نیچرل گیس (ایل این جی) کی سپلائی کا پانچواں حصہ متاثر کیا اور عالمی توانائی بحران کو جنم دیا ہے۔
سیکڑوں جہاز اور تقریباً 20,000 جہازران خلیج کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، اور جنگ کے خطرے کے بیمہ کار اور تیل کی کمپنیاں کسی بھی اشارے کا انتظار کر رہی ہیں کہ خطرات کم ہو تاکہ وہ جہاز چلانے کی تیاری کر سکیں۔
























Comments