BR100 Increased By (0.47%)
BR30 Increased By (0.61%)
KSE100 Increased By (0.56%)
KSE30 Increased By (0.48%)
BAFL 58.20 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 27.25 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 34.87 Increased By ▲ 0.47 (1.37%)
CNERGY 12.87 Decreased By ▼ -0.24 (-1.83%)
DFML 18.70 Increased By ▲ 0.30 (1.63%)
DGKC 215.55 Increased By ▲ 1.89 (0.88%)
FABL 100.00 Increased By ▲ 0.44 (0.44%)
FCCL 58.11 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
FFL 16.30 Increased By ▲ 0.07 (0.43%)
GGL 24.33 Increased By ▲ 0.35 (1.46%)
HBL 333.95 Decreased By ▼ -4.21 (-1.24%)
HUBC 214.89 Increased By ▲ 1.53 (0.72%)
HUMNL 10.60 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.04 (0.54%)
LOTCHEM 27.79 Increased By ▲ 0.12 (0.43%)
MLCF 102.98 Increased By ▲ 0.23 (0.22%)
OGDC 321.01 Increased By ▲ 2.09 (0.66%)
PAEL 43.25 Increased By ▲ 0.15 (0.35%)
PIBTL 16.71 Increased By ▲ 0.08 (0.48%)
PIOC 276.13 Increased By ▲ 3.13 (1.15%)
PPL 233.29 Increased By ▲ 3.84 (1.67%)
PRL 69.50 Decreased By ▼ -1.30 (-1.84%)
SNGP 104.00 Decreased By ▼ -0.58 (-0.55%)
SSGC 27.61 Increased By ▲ 0.20 (0.73%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.07 (0.82%)
TPLP 15.70 Decreased By ▼ -0.06 (-0.38%)
TRG 60.42 Increased By ▲ 0.13 (0.22%)
UNITY 11.80 Increased By ▲ 0.08 (0.68%)
WTL 1.19 Decreased By ▼ -0.01 (-0.83%)
دنیا

ایران کی فاسٹ بوٹ حکمتِ عملی سے آبنائے ہرمز میں بحری خطرات میں اضافہ

  • بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق ایران نے ان کشتیوں کو اپنی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے قریب چھوٹی اور تیز رفتار کشتیوں کے جھنڈ کے ذریعے دو کنٹینر جہازوں پر قبضہ عالمی بحری سلامتی کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی اس تاثر کو کمزور کرتی ہے کہ امریکا ایران کی بحری صلاحیت کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا چکا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ اگرچہ ایران کی روایتی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم اس کی فاسٹ اٹیک بوٹس اب بھی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان کشتیوں کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب بھاری مشین گنز، راکٹ لانچرز اور بعض صورتوں میں اینٹی شپ میزائلوں سے لیس رکھتے ہیں۔

بحری سلامتی کے ماہرین کے مطابق ایران نے ان کشتیوں کو اپنی غیر روایتی جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے، جس میں ساحلی میزائل، ڈرونز، بارودی سرنگیں اور الیکٹرانک مداخلت بھی شامل ہیں۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن کے فیصلوں کو ناکام کرنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جنگ سے قبل ایران کے پاس سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسی کشتیاں موجود تھیں، جن میں سے تقریباً 100 تباہ ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود یہ چھوٹی کشتیاں تیزی سے حملہ کر کے فوری طور پر واپس ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کشتیاں براہِ راست جنگی جہازوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور کسی بڑے تصادم میں بھاری نقصان اٹھا سکتی ہیں۔ اس کے باوجود تجارتی جہازوں کے لیے خطرات برقرار ہیں، جس کے باعث عالمی شپنگ انڈسٹری کو مزید خلل اور انشورنس اخراجات میں اضافے کا سامنا ہو سکتا ہے۔

Comments

200 حروف