ترقیاتی منصوبوں میں تیزی کیلئے وزیراعظم نے پی تھری اے کی تنظیم نو کی منظوری دیدی
- مقصد ملک میں ترقیاتی منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تیزی سے مکمل کرنا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) اور اس کے متعلقہ نظام کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کی اصولی منظوری دے دی ہے، تاکہ ملک میں ترقیاتی منصوبوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تیزی سے مکمل کیا جا سکے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی تھری اے کی کارکردگی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے کے لیے اس ادارے کو نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرنا ہوگا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی صلاحیت بہتر بنانے کی ہدایت کی تاکہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبے مؤثر طریقے سے شروع کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے منصوبوں کو وزارتوں اور اداروں کی کارکردگی کے کلیدی اشاریوں (کے پی آئیز) میں بھی شامل کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنا رہے ہیں۔
اجلاس میں مختلف ممالک کے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈلز کا موازنہ بھی پیش کیا گیا اور نئے مجوزہ نظام کی خصوصیات پر بریفنگ دی گئی۔
نئے نظام کے تحت پی تھری اے کی نگرانی کابینہ کمیٹی برائے نجکاری اور نجکاری ڈویژن کے ذریعے کی جائے گی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ منظور شدہ نئے نظام پر عمل درآمد کی رفتار کو تیز کیا جائے۔
اجلاس میں وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments