BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
دنیا

امریکی ناکہ بندی کا ایران کی تیل کی ترسیل پر کیا اثر پڑے گا؟

  • اعداد و شمار کے مطابق ایران مارچ میں یومیہ 1.84 ملین بیرل خام تیل برآمد کر رہا تھا
شائع اپ ڈیٹ

امریکا کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس اقدام سے یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی تیل کی سپلائی عالمی منڈی سے کٹ سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایران آنے جانے والے جہازوں کی ناکہ بندی شروع کرے گی۔ بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ یہ پابندی صرف ان جہازوں پر لاگو ہوگی جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں، جبکہ دیگر ممالک کے جہازوں کی آمدورفت متاثر نہیں ہوگی۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

اعداد و شمار کے مطابق ایران مارچ میں یومیہ 1.84 ملین بیرل خام تیل برآمد کر رہا تھا جبکہ اپریل میں اب تک یہ شرح تقریباً 1.71 ملین بیرل یومیہ رہی ہے۔ جنگ سے قبل پیداوار میں اضافے کے باعث اس وقت 180 ملین بیرل سے زائد ایرانی تیل بحری جہازوں پر موجود ہے۔

دوسری جانب خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ سرگرمیاں تقریباً معطل ہو چکی ہیں۔ متعدد آئل ٹینکرز نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے، تاہم کچھ جہاز محدود تعداد میں گزرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے پرچم بردار ٹینکرز شالامار اور خیبرپور خلیج میں داخل ہوئے ہیں تاکہ متحدہ عرب امارات اور کویت سے کارگو حاصل کر سکیں، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں نے محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی ممالک پر پڑے گا، خاص طور پر چین اور بھارت جیسے بڑے درآمد کنندگان پر، کیونکہ جنگ سے قبل عالمی تیل و گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی تھی۔

Comments

200 حروف