BR100 Increased By (0.21%)
BR30 Increased By (0%)
KSE100 Increased By (0.22%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 57.09 Increased By ▲ 0.22 (0.39%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.42 Increased By ▲ 0.07 (0.23%)
CNERGY 13.15 Increased By ▲ 0.03 (0.23%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 193.38 Increased By ▲ 0.93 (0.48%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.90 Increased By ▲ 0.11 (0.21%)
FFL 14.82 Increased By ▲ 0.10 (0.68%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 307.29 Increased By ▲ 1.19 (0.39%)
HUBC 201.99 Increased By ▲ 0.57 (0.28%)
HUMNL 10.17 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.70 Increased By ▲ 0.54 (0.58%)
OGDC 315.90 Decreased By ▼ -0.83 (-0.26%)
PAEL 35.65 Increased By ▲ 0.02 (0.06%)
PIBTL 14.99 Increased By ▲ 0.31 (2.11%)
PIOC 243.70 Increased By ▲ 0.49 (0.2%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.70 Increased By ▲ 0.68 (0.73%)
SNGP 91.95 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.74 Decreased By ▼ -0.07 (-0.29%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.90 Decreased By ▼ -0.07 (-0.54%)
TRG 56.87 Increased By ▲ 0.31 (0.55%)
UNITY 8.05 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

پیٹرول ڈیلرز کا ملک گیر ہڑتال کا انتباہ

  • موجودہ مارجن سسٹم ناقابلِ عمل ہو چکا ہے، حاجی امیر خان محسود
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی ہڑتال کی جا سکتی ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آپریشنل لاگت کے باعث ان کے منافع کے مارجن غیر مؤثر ہو چکے ہیں۔

سندھ ریجن کے صدر حاجی امیر خان محسود نے کہا کہ موجودہ مارجن سسٹم ناقابلِ عمل ہو چکا ہے اور ڈیلرز کے لیے فوری طور پر کمیشن بڑھا کر آٹھ فیصد کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ مطالبہ پہلے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان اور آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ہمایوں خان کی جانب سے مشترکہ طور پر اٹھایا گیا تھا، اور اب ملک بھر کی قیادت دوبارہ اسے دہرا رہی ہے۔

حاجی امیر خان محسود کے مطابق اس وقت تقریباً آٹھ روپے فی لیٹر کا منافع موجودہ اخراجات کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی، اجرتوں اور دیگر کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس نے ڈیلرز کے لیے کاروبار چلانا مشکل بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام نے بھی مشکلات میں اضافہ کیا ہے کیونکہ بینک اور کارڈ سروسز کے ذریعے لین دین پر اضافی فیس ادا کرنا پڑتی ہے، جو موجودہ مارجن میں قابل برداشت نہیں۔

انہوں نے بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایران سے اسمگل ہونے والا سستا ایندھن قانونی کاروبار کو نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے مؤثر کارروائی نظر نہیں آتی۔

انہوں نے اوگرا کے اس مؤقف کا حوالہ بھی دیا کہ پیٹرول پمپس کے لیے فی لیٹر آٹھ اعشاریہ چونسٹھ روپے مارجن تجویز کیا گیا تھا، تاہم اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات پورے نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کیے جا سکتے ہیں، جس سے ایندھن کی سپلائی متاثر ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے ڈیلرز تنظیموں کی مشاورت کے بعد آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف